خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 400 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 400

خطبات طاہر جلد ۱۰ 400 خطبہ جمعہ ارمئی ۱۹۹۱ء کے ساتھ لے جانا۔یہاں صدق کے لفظ نے تنزل کی نفی فرما دی۔چونکہ بعض دفعہ ایک انسان ایک اعلیٰ مرتبہ حاصل کرنے کے باوجود اس مرتبہ پر اپنی شامت اعمال کے نتیجہ میں قائم نہیں رہ سکتا جیسا کہ قرآن کریم نے بلعم باعور کی مثال دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ایسی صلاحیتیں عطا کی تھیں کہ اگر وہ چاہتا یعنی اگر وہ نیک اعمال پر استقامت اختیار کرتا اور خدا کی طرف رفعتیں حاصل کرنا چاہتا تو یقیناً اللہ تعالیٰ ان صلاحیتوں کے نتیجہ میں جو اسے عطا کی گئی تھیں اسے بلند مقام عطا فرما سکتا تھاوَلكِنَّةً أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ لیکن وہ بدبخت ایسا نکلا کہ وہ دوبارہ زمین کی طرف جھک گیا پس اس کا بلند مرتبہ سے نکلنا مُخْرَجَ صِدْقٍ نہیں کہلا سکتا کیونکہ وہ سچائی کی بجائے جھوٹ کے قدم کے ساتھ باہر الله نکلا۔پس آنحضرت ﷺ کو یہ کامل دعا سکھائی گئی کہ تیرا داخل ہونا بھی صدق کے ساتھ ہو اور تیرا نکلنا بھی صدق کے ساتھ ہو یعنی تنزل کی طرف تو نہ جائے بلکہ ہمیشہ مراتب کی طرف تیرا قدم آگے بڑھتا رہے۔دوسر ا صدق کا معنی یہاں ایسا ہے جسے تمام مومنین کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے۔بسا اوقات انسان کو اعلیٰ مراتب کی تمنا ہوتی ہے اور اس تمنا میں خود غرضی بھی داخل ہو جاتی ہے ، ریا کاری بھی داخل ہو جاتی ہے اور انسان چاہتا ہے کہ میں بھی نیک شمار کیا جاؤں اور دنیا کی نظر میں میرا مرتبہ بلند ہو اور مجھے مقام محمود حاصل ہو، یعنی دنیا کی نگاہ میں مقام محمود حاصل ہوایسے لوگوں کو بعض دفعہ ایسے روحانی تجارب سے ملتے جلتے تجارب ہوتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم خدا کے مقرب بن گئے ہیں حالانکہ وہ روحانی تجارب نہیں ہوتے وہ شیطانی تجارب ہوتے ہیں۔پس ہر وہ شخص جو بلند پردازی کا خواہشمند ہے، جو خدا تعالیٰ کا قرب چاہتا ہے اس کو یہ دعا بہت ہی با قاعدگی کے ساتھ اور اس کے مضامین میں ڈوب کر کرنی چاہئے ورنہ اس کا قدم قدم صدق نہیں رہے گا۔پس ربِّ اَدْخِلْنِى مُدْخَلَ صِدْقٍ کا مطلب یہ ہے کہ اے خدا مجھے جو بھی بلند مرتبہ عطا فرماوہ سچائی کے ساتھ ہو۔اس میں میرے دل کی نفسانی خواہشات کا کوئی بھی دخل نہ ہو اس میں میرے جھوٹ کا کوئی دخل نہ ہو۔وہ خالصہ سچائی کا قدم ہو جو ترقیوں کی طرف اٹھنے والا ہو اور تیری رضا اسے حاصل رہے اور اسی طرح جب میں اس مقام سے نکال کر ایک بلند تر مقام کی طرف لے جایا جاؤں تو تب بھی میری ادنی تمناؤں کا اس میں کوئی دخل نہ ہو بلکہ ارفع و اعلیٰ مقاصد کے لئے تجھ سے ہی مدد مانگتے ہوئے میں آگے بڑھنے والا بنوں۔پس یہ دعا بہت ہی کامل جامع اور مانع دعا ہے۔