خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 402 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 402

خطبات طاہر جلد ۱۰ 402 خطبہ جمعہ ۰ ارمئی ۱۹۹۱ء انسانوں میں سے تھے اور بہت ہی فیاض اور خدمت کرنے والے انسان تھے۔شیطان کو آپ پر حسد ہوا اور شیطان نے خدا تعالیٰ سے بات کرتے ہوئے یہ کہا کہ ایوب جو تیرا بندہ ہے تو اس پر نازاں ہے کہ بڑی عبادت کرنے والا اور ان سب نعمتوں کے باوجود مجھے نہ بھلانے والا ہے لیکن اسے آزمائش میں ڈال کر دیکھ پھر پتا چلے گا۔چنانچہ اس کے اموال تباہ کر دے پھر میں دیکھوں گا کہ وہ کیسے تیرا بندہ رہتا ہے۔اس پر خدا تعالیٰ نے اسے کہا کہ ہاں اموال پر تجھے تصرف دیا جاتا ہے اور حضرت ایوب کے تمام اموال تباہ ہو گئے۔پھر اس نے اولاد کا طعنہ دیا کہ اولاد تو اچھی ہے۔دنیا کے جانور اور دولتوں کی بعضوں کو پرواہ نہیں ہوتی اولاد کا صدمہ برداشت نہیں کر سکتے پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی اولاد کو پہلے جلا وطن کروایا پھر مر نے دیا اور اولا دضائع ہوگئی۔پھر شیطان نے کہا کہ اس کے بدن کے اوپر مجھے تصرف دیا جائے۔خدا تعالیٰ نے کہا کہ اگر بدن کی آزمائش بھی چاہتے ہو تو یہ بھی کر کے دیکھ لو چنانچہ آپ کے بدن کو ایسی بیماری لگ گئی کہ بائیبل کے بیان کے مطابق جس میں ناسور ہو گئے اور نہایت ہی مکروہ قسم کی بیماری تھی جس سے لوگ بھی کراہت کر کے پناہ مانگتے تھے اور دوڑتے تھے اور جسم میں کیڑے پڑ گئے اور لوگوں نے آپ کو نکال کر بستی سے باہر کر دیا۔تب بھی حضرت ایوب صابر و شاکر رہے اورخدا کے ساتھ وفامیں کوئی کمی نہ آئی۔تب شیطان نے خدا سے کہا کہ بیوی تو ابھی تک ساتھ ہے اور وہ وفادار ہے، بیوی کی طرف سے بھی اس کو کچھ صدمہ پہنچے تو بیوی کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ اس نے شیطان کی چال میں آکر یا کہانی یوں بیان کی گئی ہے کہ شیطان نے خود ہی سوچا کہ جس طرح میں نے حوا کو گمراہ کیا تھا میں اس کی بیوی کو بھی گمراہ کروں تا کہ یہ بھی ساتھ نہ رہے پھر میں دیکھوں گا کہ اس کا صبر ٹوٹتا ہے کہ نہیں۔چنانچہ اس نے بیوی کو یہ کہا کہ یہ بچھڑا یا کوئی جانور میرے نام پر ذبح کرو تو تمہارا خاوند اچھا ہو جائے گا گویا شرک کی تعلیم دی اور بیوی اس پر اس حد تک آمادہ ہوگئی کہ اس نے حضرت ایوب سے اس کا ذکر کیا اور یہاں تک کہا کہ تو اب خدا کو چھوڑ۔کہاں تک صبر کرے گا۔اس سے موت مانگ اور اس مصیبت سے چھٹکارا حاصل کر۔حضرت ایوب اس پر ناراض ہوئے اور عہد کیا کہ اگر میں اچھا ہو جاؤں گا تو اس کو سو کوڑے ماروں گا۔اس شرک میں مبتلا ہونے کے نتیجہ میں یعنی بطور سزا اس کو میں سو کوڑے ماروں گا۔اس پر بیوی چھوڑ کر چلی گئی اور اکیلے رہے۔تب بھی حضرت ایوب ثابت قدم رہے۔تب اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتایا کہ یہ تیری آزمائش کا دور تھا، تو اس پر