خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 398
خطبات طاہر جلد ۱۰ 398 خطبه جمعه ۱۰ رمئی ۱۹۹۱ء مدینہ کی نسبت سے یہ ہوگا کہ اے محمد اب تو اس شہر میں داخل ہو نیوالا ہے جو تیرے صدق پر گواہ ہوگا اور صدق کے ساتھ تجھے قبول کرے گا اور پھر جب تو نکلے گا تو صدق کے ساتھ ہی نکلے گا اور دوبارہ اس شہر میں داخل ہوگا اور دوبارہ داخلے کا مضمون چونکہ پہلے بیان ہو چکا ہے اس لئے فتح مکہ کے اوپر ادْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ کا مضمون صادق آئے گا اور یہ بات بن جائے گی کہ جب تو دوبارہ اس شہر میں داخل ہوگا اس وقت شہر کا ذرہ ذرہ اس کی اینٹ اینٹ اس کی ساری فضا گواہی دے رہی ہوگی کہ یہ مرد صادق ہے جو واپس اپنے شہر کولوٹ کر آیا ہے اور چونکہ یہ ایک پیشگوئی تھی اس لئے اس کے پورا ہونے کے نتیجہ میں از خود ہی آپ کا صدق مکہ میں داخل ہوتے ہوئے ظاہر و باہر ہو جانا تھا۔ وَاجْعَلْ لِي مِن لَّدُنْكَ سُلْطَنَا نَصِيرًا کا مطلب ہے اور میرے لئے اپنی جناب سے کوئی ایسے مددگار انصار عطا فرمادے جن کو تو طاقت عطا کرے ، غلبہ عطا کرے اور ان کی مد د معنی خیز ہو، کوئی کمزور مددگار نہ ہو بلکہ غالب اور طاقتور مددگار ہو چنانچہ یہ دعا بھی انصار مدینہ کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے بعینہ اسی طرح قبول فرمائی جیسا کہ سکھائی تھی اور انصار مدینہ کو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ آپ کی غالب نصرت کرنے کی توفیق ملی اور انصار نے جو مدد کی ہے وہ اگر چہ بظاہر انصار کی طرف سے ہے مگر مِنْ لَدُنْكَ کے لفظ نے یہ بتا دیا کہ انصار کی مدد اللہ کے ایماء پر ہے اور اللہ کی طرف سے ہے۔اس کے بغیر اس مدد کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ پس بظاہر آنحضرت ﷺ اور آپ کے مہاجر ساتھی انصار کے ممنون احسان ہونے والے تھے مگر خدا تعالیٰ نے دعا میں مِنْ لَدُنْكَ کا لفظ رکھ کر یہ خوشخبری بھی ساتھ دیدی کہ تیری اس دعا کے نتیجہ میں وہ مدد کریں گے ان کے دل تبدیل کئے جائیں گے ان کو توفیق عطا کی جائے گی اس لئے تو یہ نہ سمجھنا کہ کسی انسان کے زیرا احسان آ رہا ہے بلکہ دعا کے نتیجہ میں یہ مدد خالصہ اللہ ہی کی طرف سے ہوگی ۔ صلى الله دوسرا اس دعا کا ایک تعلق عام روزمرہ کے سفروں سے بھی ہے اور قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ قرآنی دعا ئیں وسیع معانی رکھتی ہیں اور مختلف حالات پر چسپاں ہو سکتی ہیں اور ہوتی رہتی ہیں اس لئے قرآن کریم کی جو دعا ئیں خاص مواقع سے بھی تعلق رکھتی تھیں حضرت اقدس محمد مصطفی اعلا صلى الله اور آپ کے صحابہ ان کو مختلف ملتے جلتے مواقع پر بھی استعمال کیا کرتے تھے اور ان سے استفادہ کرتے تھے ۔ پس روزمرہ کے سفروں میں یہ دعا بہت ہی مفید ہے اور میں نے خود اس کا تجربہ کر کے دیکھا ہے