خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 397 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 397

خطبات طاہر جلد ۱۰ 397 خطبہ جمعہ ۰ ارمئی ۱۹۹۱ء لیکن جو مستشرقین متقین باقی مسلمان علماء سے اختلاف بھی رکھتے ہیں ان کے نزدیک بھی سن ۱۲ھ تک کا زمانہ ہے اس عرصہ کے اندراندر یہ سورۃ نازل ہو چکی تھی اور بعض مفسرین تو اس سے بہت پہلے کا زمانہ بتاتے ہیں بہر حال ہجرت سے پہلے کی یہ سورۃ ہے اور اس آیت کے متعلق بھی یہ تحقیق شدہ بات ہے کہ اس دعا میں دراصل ہجرت کی بھی پیشگوئی فرمائی گئی تھی۔لیکن صرف ہجرت تک اس دعا کا مضمون محدود نہیں جیسا کہ میں بیان کروں گا اس سے زیادہ وسیع تر معانی اس میں پائے جاتے ہیں۔آنحضور ﷺ نے ۱۳ سال نبوت کے مکہ میں بسر فرمائے۔تیرہ سال تک دکھ جھیلے اور پھر تیرہویں سال کے آخر پر کم و بیش اس عرصہ میں آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔پس یہ دعا آپ کو یہ بتارہی تھی کہ اے محمد ﷺے تجھے اس شہر سے نکلنا بھی ہے اور دوبارہ اس شہر میں داخل بھی ہونا ہے۔تیرا نکلنا بھی سچائی کے ساتھ ہوگا اور تیرا دوبارہ اس شہر میں داخل ہونا بھی سچائی کے ساتھ ہوگا لیکن اس میں نکلنے اور داخل ہونے کی ترتیب کو بدل دیا گیا ہے اور داخل ہونے کا ذکر پہلے ہے اور نکلنے کا بعد میں فرمایا۔اے محمد ے گو یا کہ آپ کو دعا سکھائی جارہی ہے کہ تو یہ دعا کیا کر۔رَّبِّ أَدْخِلْنِی مُدْخَلَ صِدْقٍ اے میرے رب مجھے صدق کے ساتھ داخل فرما و أَخْرِجْنِى مُخْرَجَ صِدْقٍ اور صدق کے ساتھ مجھے نکلنے کی توفیق عطا فرما۔تو مکہ سے تو پہلے نکلنا تھا پھر ادخال کا ذکر کیوں پہلے فرمایا۔اس میں حکمت یہ ہے کہ آنحضرت صلی عملے کو ایک لحظہ کے لئے بھی خدا تعالیٰ اس دکھ میں مبتلا نہیں کرنا چاہتا تھا کہ گویا میں مکہ سے نکلوں گا اور پھر شاید واپس آؤں یا نہ آؤں۔پس واپسی کو زیادہ قطعی اور یقینی بنا کر پہلے پیش کر دیا گیا اور جس وقت یہ وحی نازل ہوئی ہے اس وقت اخراج سے پہلے آپ کو یہ خبر دیدی گئی کہ آپ نے ضرور اس شہر میں داخل ہونا ہے اس لئے جہاں تک نکلنے کا تعلق ہے اس سلسلہ میں کسی قسم کے تفکر اور غم کی ضرورت نہیں۔دوسرا اس میں حکمت یہ تھی کہ مکہ سے جس حالت میں نکالے جارہے تھے اس حالت کے متعلق دشمن یہ کہتا تھا کہ یہ صدق کی حالت نہیں ہے، آپ سچائی کی حالت میں نہیں نکالے جار ہے۔دشمن آپ کو جھوٹا ، کذاب ہمفتری اور طرح طرح کے اور بد نام دیتا تھا اور کہتا تھا کہ یہ جھوٹا ہے،اس نے خدا پر اپنی طرف سے بات گھڑ لی ہے ، مگر مدینہ جس نے آپ کا استقبال کیا اس نے صدق کے ساتھ آپ کا استقبال کیا ، صدق کی گواہی دیتے ہوئے استقبال کیا۔پس ربِّ اَدْخِلُنِی کا مضمون