خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 399 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 399

خطبات طاہر جلد ۱۰ 399 خطبہ جمعہ ارمئی ۱۹۹۱ء اور حیرت انگیز طور پر اس دعا کے نیک اثرات کا مشاہدہ کیا ہے۔ایک دفعہ میرا خیال تھا کہ اس موضوع پر جماعت سے الگ خطاب کروں کہ دعا کے نتیجہ میں سفروں میں جو حیرت انگیز سہولتیں میسر آتی ہیں وہ اتفاقی حادثات کے نتیجہ میں نہیں ہوتیں بلکہ ایسا مسلسل نصرت الہی کا سلسلہ جاری ہو جاتا ہے کہ کوئی معمولی عقل کا انسان بھی یہ محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اس میں غیبی ہاتھ ہے لیکن چونکہ اس سلسلہ مضامین میں اتنے لمبے عرصے کے لئے ایک دوسرے مضمون کے ذکر کی گنجائش نہیں ہے اس لئے آئندہ کسی وقت انشاء اللہ اس حصہ کو آپ کے سامنے رکھوں گا۔اس دعا کا ایک اور بہت ہی اہم مفہوم انسان کے مراتب سے تعلق رکھتا ہے۔انسان ہمیشہ حالتیں بدلتارہتا ہے۔ایک حالت سے نکل کر دوسری حالت میں داخل ہوتا ہے۔یہ حالت بدی سے اچھائی کی طرف بھی حرکت کر سکتی ہے اور اچھائی سے بدی کی طرف بھی حرکت کر سکتی ہے۔یعنی اس حالت کا بدلنا بدی سے اچھائی کی طرف بھی ہو سکتا ہے اور اچھائی سے بدی کی طرف بھی ہوسکتا ہے۔پس خدا تعالیٰ نے جہاں یہ دعا سکھائی وہاں صدق کا لفظ ساتھ سمجھا دیا کہ یہ دعا کرنا کہ اے خدا! جب بھی میری حالت تبدیل ہو سچائی کے ساتھ تبدیل ہو۔اس آیت سے پہلے جو مضمون چل رہا ہے ، وہ آنحضرت کے بلند مراتب کا مضمون ہے اور پہلی آیت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے صلى الله آنحضرت ﷺ کو یہ نصیحت فرمائی کہ وَ مِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَكَ عَلَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا ( بنی اسرائیل :۸۰) کہ اے میرے بندے ! راتوں کو اٹھ کر تہجد کے نوافل ادا کیا کر اور خدا کی راہ میں جدوجہد کیا کر۔عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا اس کے نتیجہ میں ہرگز بعید نہیں بلکہ قریب ہے کہ تجھے مقام محمود عطا کیا جائے۔یہاں مَقَامًا مَّحْمُودًا کو نکرہ رکھ کر اس مقام کے بہت ہی عظیم الشان ہونے کی طرف اشارہ فرما دیا گیا۔پس اس دعا کے معا بعد یہ دعا رکھی یعنی اس خوشخبری کے بعد کہ خدا تعالیٰ تجھے بہت ہی عظیم مقام اور مرتبہ عطا فرمانیوالا ہے، یہ دعا سکھائی ربِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ کہ اے خدا جس مقام پر تو مجھے فائز فرمانا چاہتا ہے یا جس پر فائز فرمانے کا تو نے فیصلہ فرمالیا ہے اَدْخِلْنِی مُدْخَلَ صِدْقٍ مجھے صدق کے ساتھ اس میں داخل فرمانا و أَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ اور اس مقام پر ٹھہرائے نہ رکھنا بلکہ اس سے آگے بلند تر مقامات کی طرف بھی ہاتھ پکڑ کر لے جانا اور صدق