خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 354 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 354

خطبات طاہر جلد ۱۰ 354 خطبه جمعه ۲۶ / اپریل ۱۹۹۱ء ابہام موجود ہے۔بالعموم تمام مسلمان یہ یقین رکھتے ہیں کہ فرعون و ہیں اسی وقت غرق ہو گیا تھا اور بیچا نہیں بلکہ صرف اس کا جسم بچا تھا اور تاریخ سے جہاں تک میں نے چھان بین کی ہے ایسی کوئی قطعی شہادت نہیں مل سکی کہ یہ فرعون جس کا ذکر چل رہا ہے یہ فرق ہو گیا تھا کیونکہ جومی (Mummy) ملی ہے وہ ہے تو اس فرعون کی۔اس کے ساتھ ایسا واقعہ تو ضرور پیش آیا ہے مگر یہ قطعی شہادت نہیں ہے کہ وہ غرق ہوکر مرا تھا اس لئے آئندہ مزید تحقیق ہمیں بتائے گی کہ اصل واقعہ کیا ہوا۔پھر اس آیت کی صحیح تفسیر ہمارے سامنے آئے گی کہ نُنَجِيكَ بِبَدَنِكَ سے کیا خدا تعالیٰ کی یہ مراد تھی کہ ہم تیرے بدن کو آج بچائیں گے، تیری روح پھر بھی نہیں بچے گی تو پھر واپس لوٹے گا اور تیرا یہ بدن دنیا کے لئے آئندہ عبرت کے لئے محفوظ کیا جائے گا اور دوسرا معنی یہ ہے کہ ہم تجھے غرق تو کر دیں گے لیکن تیری لاش کو بچائیں گے اور تیری لاش بعد میں دنیا کے لئے عبرت کا نشان بنے گی تو دونوں صورتوں میں یہ بہت ہی عظیم الشان معجزہ ہے لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ابھی اس کا ایک پہلو تشنہ تحقیق ہے۔پس دعائیں کرتے وقت یہ احتیاط ضرور کرنی چاہئے کہ اپنی طرف سے دعاؤں میں ایسی ہوشیاریاں یا چالاکیاں نہ کریں کہ بعد میں جب دعا قبول ہو تو پتا لگے کہ اوہو! یہ تو ہماری دعا کے نتیجے میں ایسی بات ہوگئی۔ایسے دلچسپ واقعات ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو دراصل بڑے پیارے اور لطیف انداز میں اپنے قرب کے نشان دیتا ہے۔بعض دفعہ تھوڑی تھوڑی سزائیں بھی ساتھ چل رہی ہوتی ہیں ، بعض لوگ بڑے معجزے دیکھنا چاہتے ہیں جو ظاہری اور عددی معجزے ہوں کہ جی فلاں شخص نے خواب میں دیکھا ہے کہ فلاں تاریخ کو یہ واقعہ ہو جائے گا اور یہ ہو گیا یہ طی چیزیں ہیں اصل جوزندہ معجزہ ہے وہ خدا کا بندے کے ساتھ ایسا باریک سلوک ہے جو زندگی میں اس کے ساتھ ہوتا رہتا ہے ایسے لطیف اشارے اسے ملتے رہتے ہیں جس کے نتیجے میں دل کی گہرائیوں میں یہ بات جاگزیں ہو جاتی ہے کہ میرا اور اللہ کا ایک معاملہ ہے جو چل رہا ہے۔حضرت منشی اروڑے خان والا واقعہ آپ نے بار ہاسنا ہے وہ اسی مضمون سے تعلق رکھتا ہے حضرت منشی ظفر احمد صاحب اور حضرت منشی اروڑے خان حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام سے ایک دفعہ رخصت ہورہے تھے جب واپس جانے کی اجازت لی تو شدید گرمی تھی اور بہت دیر سے بارش نہیں ہوئی تھی تو حضرت منشی ظفر احمد صاحب نے بے تکلفی سے، پیار سے عرض کیا کہ حضور! دعا