خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 353 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 353

خطبات طاہر جلد ۱۰ 353 خطبہ جمعہ ۲۶ / اپریل ۱۹۹۱ء اب یہ باتیں اللہ تعالیٰ کو بھی معلوم تھیں حضرت موسی نے کوئی نئی بات تو نہیں نکالی۔اس کے باوجود خدا تعالیٰ کیوں ان لوگوں کو توفیق نہیں عطا فرما رہا تھا اس لئے کہ وہ ایمان لانے کے اہل نہیں رہے تھے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ جب دعاؤں کو قبول کرتا ہے تو دعا اور قبولیت دعا کے دوران ایک بہت ہی گہر ا لطیف رشتہ ہوتا ہے جو سطحی مطالعہ سے نظر نہیں آتا مگر اللہ تعالیٰ بھی اپنے بندوں سے ایسے لطائف کرتا رہتا ہے اور یہ مضمون قرآن کریم کی دعاؤں اور استجابت دعا کے مضمون میں بہت ہی دلچسپ رنگ میں محفوظ فرمایا گیا ہے۔حضرت موسیٰ نے یہ کہا کہ جب الْعَذَابَ الْأَلِيمَ دیکھ لیں گے پھر یہ تو بہ کریں گے۔خدا نے کہا۔ہاں ہمیں علم ہے کہ کس حد تک الْعَذَابَ الْأَلِیم دیکھیں گے تو تو بہ کریں گے لیکن دعا قبول کر لی اور بعد میں فرمایا کہ جب ہم فرعون کو غرق کرنے لگے تو اس وقت اس نے کہا : امَنْتُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا الَّذِى أَمَنَتْ بِهِ بَنُو ا اِسْرَاءِ يْلَ (یونس: (۹) اس فرعون نے اس وقت پکارا کہ اب میں ایمان لایا ہوں۔لَا إِلَهَ إِلَّا الَّذِى اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے جس پر بنو اسرائیل ایمان لے آئے ہیں۔اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا۔آلن وَقَدْ عَصَيْتَ قَبلُ اب ایمان لاتا ہے جبکہ اس سے پہلے تو انکار کر چکا ہے۔تو مراد یہ ہے کہ انبیاء کی فراست بھی درست۔وہ یہ صحیح نتیجہ نکالتے ہیں کہ ابھی اور شدت عذاب میں چاہئے اس کے بغیر یہ مانیں گے نہیں۔مگر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ بعض لوگ گناہ میں اتنا بڑھ جاتے ہیں کہ جس قسم کا عذاب ان کو منواتا ہے وہ عذاب اس وقت آتا ہے جبکہ حجت تمام ہو چکی ہوتی ہے اور پھر ایمان لانا بے کار ہوجاتا ہے اب دیکھ لو تمہاری دعائیں سن کر ہم نے فرعون کو اس حد تک عذاب دے دیا کہ جس کے نتیجے میں بالآخر اس کا سر جھکا لیکن خدا نے یہ کہا کہ اب تو تیری روح کے بچنے کا کوئی وقت نہیں رہا، چونکہ جب تیری روح خطرے میں تھی تو نے اس وقت تک تو موسی“ اور موسی“ کے رب کو قبول نہیں کیا۔اب بدن کا خطرہ ہے تو اب تو کہتا ہے کہ مجھے بچالے تو فرماتا ہے کہ۔نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ ٹھیک ہے اب روح کے بچنے کا تو وقت نہیں رہا لیکن تیرے بدن کے بچانے کا وقت ہے ہم تیرے بدن کو بچالیں گے اور وہ اس لئے بچائیں گے تا کہ آئندہ نسلوں کے لئے یہ عبرت کا نشان بن جائے۔حضرت موسی کی دعا کے نتیجے میں پیش آنے والے اس واقعہ سے متعلق تاریخ میں بہت سا