خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 355 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 355

خطبات طاہر جلد ۱۰ 355 خطبه جمعه ۲۶ / اپریل ۱۹۹۱ء کریں بہت ہی گرمی ہے۔واپسی کا سفر بھی سخت ہے اللہ تعالیٰ بارش عطا فرمائے تو منشی اروڑے خان نے کہا کہ میرے لئے تو یہ دعا کریں کہ اوپر سے بھی پانی ، نیچے سے بھی پانی، پانی ہی پانی ہو جائے۔چنانچہ وہ یکے میں بیٹھے اور بٹالے کی طرف روانہ ہوئے۔راستے میں وڈالے کے قریب ایک جگہ جہاں ایک چھوٹی سی پلی آیا کرتی تھی۔(ہم بھی جب گزرتے تھے تو وہاں ایک چھوٹی سی پلی آیا کرتی تھی) اس سے پہلے کہ وہ پکی آتی اچانک بادل امڈ کر آئے اور اس قدر موسلا دھار بارش شروع ہوئی کہ اس سے جل تھل ہو گئے اور وہ گھوڑا اسی طرح سرپٹ دوڑا جار ہا تھا۔چنانچہ جب وہ پلی آئی تو اس پر وہ یکہ جو اچھلا تو منشی ظفر احمد صاحب تو ٹانگے میں ہی رہے اور منشی اروڑے خان صاحب اچھل کر باہر پانی میں جاگرے اور اوپر سے بھی پانی تھا اور نیچے سے بھی پانی۔یہ جو چھوٹے چھوٹے واقعات ہیں یہ بیرونی دنیا کے لئے شاید کوئی حقیقت نہ رکھتے ہوں لیکن مومن کی تقویت ایمان کے لئے بیرونی نشانات سے بہت زیادہ دلنشیں اور روح میں اتر جانے والے نشانات اس قسم کے ہوا کرتے ہیں اور روزمرہ کی زندگیوں میں احمدیوں کے ساتھ یہ معاملات ہوتے رہتے ہیں۔بعض دفعہ کوئی ایسا آدمی جس سے خدا تعالیٰ اچھی توقع رکھتا ہے کوئی چھوٹی سی غلطی کر بیٹھتا ہے تو اسی وقت اس کو سزا ملتی ہے، بعض ایسے ہیں جن کو بڑی بڑی غلطیوں پر بھی سزا نہیں ملتی اور وہاں سزا نہ ملنا خدا تعالیٰ کے غضب کی نشانی ہوتی ہے۔بعض دفعہ اپنے پیاروں کو انسان جلدی پکڑتا ہے جن سے اچھی توقعات ہوں ان کو جلدی ٹوکتا ہے۔جن سے اچھی تو قعات نہ ہوں ان کی بڑی بڑی چیزوں سے بھی درگزر کر جاتا ہے کہ ان سے توقع ہی یہی تھی اس لئے دعاؤں کے مضمون میں آپ کو قرآن کریم میں بھی ایسے بڑے دلچسپ واقعات ملیں گے جہاں دعا کرنے والے نے ذرا کہیں کوئی غلطی کی تو اللہ تعالیٰ نے بڑے پیارے اور لطیف انداز میں قبولیت کے وقت اس کی طرف اشارہ فرما دیا۔پس فرعون کے ڈوبنے کی دعا کا حضرت موسی کی اس دعا سے گہرا تعلق ہے جس کے نتیجے میں بالآخر اس کو ایمان لانے کی بھی توفیق ملی لیکن بے کار اور اس کا کوئی بھی فائدہ اس کو نہ پہنچا لیکن یاد رکھیں انبیاء کی دعائیں تو بے کار نہیں جایا کرتیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس میں ایک نیا اور لطیف مضمون داخل فرما دیا۔لِتَكُونَ لِمَنْ خَلْفَكَ آيَةً ہم تیرے بدن کو محض ایک فضول لطیفہ گوئی کے طور پر نہیں