خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 297 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 297

خطبات طاہر جلد ۱۰ 297 خطبہ جمعہ ۱۵ اپریل ۱۹۹۱ء لائق تا ہے۔ پھر ہم یہ دعا مانگتے ہیں کہ اے خدا ہمیں اُمَّةً وَسَطًا (البقرہ:۱۴۴) بنادے ۔ یعنی وہ امت بنادے جس کی تو نے محمد مصطفی عملے کو خوشخبری دی تھی کہ وہ میانہ روی اختیا کرنے والی امت عروسة ہے ، افراط اور تفریط سے پاک ہے ۔ وہ درمیانی راہوں پر چلنے والی امت ہے اور ہمیں تمام دنیا پر نگران بنادے ۔ ہم تمام دنیا کے اخلاق کی نگرانی اور حفاظت کرنے والے ہوں اور اپنے رسول محمد مصطفی کو ہم پر نگران بنائے رکھتا کہ گویا ہم اس کی آنکھوں کے سامنے ان فرائض کو ادا کرنے والے ہوں جو تو نے عائد فرمائے ہیں اور اس سند کے ساتھ کہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مدر سے سے ہم نے تعلیم حاصل کی اور سند پائی۔ ہم باقی دنیا کے اعمال کی بھی نگرانی کرنے والے ہوں اور انہیں علم سکھانے والے بنیں اور نیک اعمال سکھانے والے بنیں ۔ اے خدا! ہمیں استباق فی الخیرات کی توفیق عطا فرما۔ صرف نیکیوں کی توفیق نہ عطا فرما بلکہ ہم ہر وقت جدو جہد میں مبتلا رہنے والے ہوں ہمیں ان لوگوں کی راہوں پر چلا جو ہمیشہ آگے بڑھنے کی نیت سے ورزشیں کرتے رہتے ہیں اور محنتیں کرتے رہتے ہیں ۔ آپ میں سے کسی کو اگر صبح کی سیر کی عادت ہو یا توفیق ملی ہو تو دیکھا ہوگا کہ بہت سے ایسے اتھلیٹ یعنی کھلاڑی اور جو مختلف جسمانی مقابلوں میں حصہ لینے والے ہیں صبح صبح اٹھ کر دوڑ رہے ہوتے ہیں اور ایسے وقت میں بھی جب کہ شدید سردی ہو یا پاکستان وغیرہ میں شدید گرمی ہو تو وہ ان باتوں سے بے نیاز بڑی محنت کر رہے ہوتے ہیں۔ پہلوان ہیں جو اکھاڑوں میں محنت کر رہے ہیں غرضیکہ ایسے لوگ کسی امید پر کہ شاید کبھی ہم اپنے ملک میں نام پیدا کرنے والے بنیں اور اس امید پر کہ شاید کبھی ہم بین الاقوامی مقابلوں میں نام پیدا کرنے والے بنیں ، ساری زندگی محنت میں صرف کرتے ہیں ۔ پس جب ہم استباق في الخيرات کی دعا مانگتے ہیں۔ تو یہ بات ہے جس کی دعا مانگتے ہیں کہ اے خدا! ہمیں محنت کی توفیق عطا فرما جس کے نتیجے میں ہم اپنے بھائیوں سے نیکیوں میں آگے بڑھنے والے بنیں ۔ اگر یہ محنت نہیں کریں گے تو یہ تو فیق مانگنے کی دعا کا کیا مطلب ہے؟ پس جب استباق فـي الخیرات کی دعا مانگیں تو ان سارے نظاروں کو پیش نظر رکھ لیا کریں، جہاں مقابلوں میں حصہ لینے والے مختلف رنگ میں مختلف مقامات پر دن اور رات یا کسی اور حصے میں محنتیں کر رہے ہوتے ہیں اور زندگیاں ان محنتوں میں صرف کر دیتے ہیں اور اکثر ہیں جن کی امیدیں پوری نہیں ہوتیں ۔ بہت