خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 296 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 296

خطبات طاہر جلد ۱۰ 296 خطبه جمعه ۵/ اپریل ۱۹۹۱ء اجر تیرے پاس ہے اور تیرے تعلق کے فیض سے وہ ہر دوسرے خوف اور غم سے آزاد ہو گئے۔ہمیں ان غم لوگوں کی راہ دکھا جو جس راہ پر بھی چلے ہمیشہ تجھے پیش نظر رکھا۔اے خدا تجھے پیش نظر رکھا جو تمام وسعتوں کا مالک خدا ہے، ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے، جو کچھ زمین و آسمان میں ہے اسی کا ہے اور ہر چیز اسی کی اطاعت کا دم بھرتی ہے۔وہ جو زمین و آسمان کو عدم سے وجود میں لانے والا ہے اور جب کسی تخلیق کا ارادہ باندھتا ہے تو فرماتا ہے کہ ہو جا اور لازماًوہ ہو کر رہتی ہے۔پس اے خدا! ہمیں اس یقین کے ساتھ ان راہوں پر چلا کہ ہم ایسی قدرتوں کے مالک خدا سے مدد مانگنے والے ہیں۔پھر ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جو تیری کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور اس کا حق ادا کرتے ہیں یعنی دن رات تلاوت کے لئے وقت نکالتے پھر غور اور سمجھ کے ساتھ تیری کتاب کی تلاوت کرتے ہوئے اس کے مضامین کو اخذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اس کے مضامین میں ڈوبنے کی کوشش کرتے ہیں، سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور ہر وقت اپنے آپ کو اس کتاب کی کسوٹی پر پر کھتے رہتے ہیں۔یہ مضمون ہے جو حق تلاوت کا مضمون ہے ہم اس کی بھی دعا مانگتے ہیں۔اور پھر یہ دعا مانگتے ہیں کہ ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی طرح ہمیں ہماری قربان گاہیں دکھا ہمیں آزمائشوں میں ڈال لیکن اس شرط کے ساتھ کہ ان آزمائشوں پر پورا اترنے کی بھی توفیق عطا فرما اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جو مرتے دم تک تیرے حضور سپردگی کے عالم میں رہتے ہیں تسلیم ورضا کی حالت میں رہتے ہیں، اپنے آپ کو تیرے حضور پیش کر دیتے ہیں اور پھر اپنے وجود کو تجھ سے واپس نہیں لیتے اور مرتے وقت اپنی اولاد کو بھی یہی نصیحت کرتے ہیں کہ توحید پر قائم رہنا اور خدا سے تعلق باندھے رکھنا اور کبھی اس تعلق کو نہ توڑنا کیونکہ اس تعلق کے توڑنے پر تم ہمیشہ کے لئے ہلاک کر دیئے جاؤ گے۔پس وفا کے ساتھ تو حید پر قائم رہنا اور ایک خدا سے اپنے تعلق کی حفاظت کرنا۔ایسے لوگوں کی راہ پر چلا جو تیرے حضور یہ اقرار کرتے ہیں کہ تو نے جتنے بھی دنیا میں رسول بھیجے ہم ان سب پر ایمان لے آئے ہیں۔ہمیں توفیق بخش کہ ہم ایک رسول اور دوسرے رسول کے درمیان ایسی تفریق نہ کریں کہ جس کے نتیجے میں کسی کی وحی کو واجب العمل سمجھیں اور کسی کی وحی کو اس طرح واجب العمل نہ سمجھیں بلکہ یقین کریں کہ تیرا کلام خواہ اعلیٰ پر نازل ہو خواہ ادنی پر نازل ہو وہ کلام تیرا کلام ہے اور اس حیثیت سے ہر کلام خواہ دنیا کے کسی بندے پر نازل ہوا ہو وہ عزت اور احترام کے