خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 285 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 285

خطبات طاہر جلد ۱۰ 285 خطبہ جمعہ ۵/ اپریل ۱۹۹۱ء کرتے لیکن یہ معشوق ہر آن اپنے عشاق کی مدد کے لئے مستعد کھڑارہتا ہے۔وہ ان کے دل کی پکار پر کان دھرتا ہے اور ہمیشہ اس بات کا خیال رکھتا ہے کہ کب میرا عاشق مجھے مدد کے لئے پکارے تو میں دوڑتا ہوا اس کی طرف بڑھوں۔جب وہ سوال کرتا ہے تو اس کو جواب دیتا ہے کہ فَإِنِّي قَرِيبٌ (البقرہ:۱۸۷)اے میرے بے قرار، بے چین بندے، اے میرے متلاشی ! میں تو تیرے پاس ہی ہوں۔یہ ایسا معشوق ہے جو ماں سے بہت بڑھ کر اپنے طلبگار بچے سے حسن واحسان کا سلوک کرتا ہے۔پس جہاں یہ راہ مشکل ہے وہاں آسان بھی ہو جاتی ہے اگر دعاؤں کی مدد سے اس کو آسان کیا جائے اور خدا سے وہ تعلق باندھا جائے جو محبت اور پیار اور عشق کا تعلق ہے۔اس وضاحت کے بعد میں چند نمونے آپ کے سامنے قرآن کریم کے بیان کے پیش کرتا ہوں۔قرآن کریم میں مختلف جگہ منعم علیہم کا ذکر بھی فرمایا گیا اور ان لوگوں کا ذکر بھی فرمایا گیا جو الْمَغْضُوبِ ہیں یا الضالین ہیں۔عام طور پر معاملے کو آسانی سے سمجھانے کی خاطر یہ کہا جاتا ہے کہ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کے متعلق جب آپ سوچیں تو یہ سوچیں کہ گویا یہود کا ذکر چل رہا ہے اور الضالین کی بات کریں تو ذہن میں عیسائیوں کی تاریخ کو لے آئیں لیکن یہ بات اتنی سادہ اور ایسی آسان نہیں اور اس طرح یک لخت اور یک دفعہ کسی ساری کی ساری قوم کو الضَّالِّينَ قراردینا بھی درست نہیں ورنہ یہ بات قرآن کریم کے بعض بیانات سے متصادم ہو جائے گی ،ان بیانات سے ٹکرا جائے گی کیونکہ یہی وہ کتاب ہے جس میں بہت سے یہود کی بہت بڑی بڑی تعریفیں فرمائی گئی ہیں اور ان کو خدا کے نیک بندے قرار دیا گیا ہے یہی وہ کتاب ہے جس نے بہت سے عیسائیوں کی بہت تعریفیں فرمائی ہیں اور انہیں خدا کا عابد وزاہد بندہ قرار دیا ، ایسے بندے جو خدا کی خاطر دنیا حج کے ایک طرف چلے گئے اور عمر بھر عبادات میں صرف کر دی۔پس ایسی کتاب کے مضمون کو اس رنگ میں سمجھنا کہ اس کتاب کے دوسرے مضمون سے ٹکرانے لگے درست نہیں۔پس جب ہم کہتے ہیں کہ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کے رستوں سے ہمیں بچا تو یہود کی بات ان معنوں میں سوچتے ہیں کہ یہود قوم میں بہت سے ایسے ہیں جنہوں نے شروع تاریخ سے ہی ایسی غلطیاں کیں جو خدا کے غضب کا نشانہ بنانے والی بھی تھیں اور دنیا کے غضب کا نشانہ بنانے والی بھی تھیں۔پس یہود سے نہیں بلکہ ان بار بار ٹھوکر کھانے والوں اور غلطیاں کرنے