خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 286 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 286

خطبات طاہر جلد ۱۰ 286 خطبه جمعه ۵ / اپریل ۱۹۹۱ء والوں کی راہ سے بچانے کی دعا ہے جو خدا کے غضب کا اور بنی نوع انسان کے غضب کا نشانہ بنے ہیں۔پس ان مکروہات سے بچنے کی دعا ہے جو مکروہات خدا کے غضب پر منتج ہو جاتی ہیں اور اسی طرح ان غلطیوں اور ٹھوکروں سے بچنے کی دعا کی ہے جن میں عیسائی قوم بحیثیت قوم مبتلا ہوئی اور خدا کے ایک عاجز بندے کو خدا کا بیٹا بنا بیٹھی لیکن خودان میں بہت سے نیک لوگ بھی ہیں جب وہ خدا کا ذکر کرتے ہیں تو ان کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہو جاتی ہیں، ان کے دل نرم پڑ جاتے ہیں۔وہ خدا کے حضور اٹھ کر گریہ وزاری میں اور جھک کر اس کے حضور عبادت کرتے ہوئے راتیں گزارتے ہیں۔ایسے گروہ یہود میں سے بھی ہیں اور نصاریٰ میں سے بھی ہیں۔پس کسی قوم سے نفرت کی تعلیم نہیں دی گئی بلکہ بعض برائیوں سے نفرت کی تعلیم دی گئی ہے اور ان کی مثالیں آپ کے سامنے معاملے کو آسان بنانے کے لئے رکھی گئیں۔ایک اور وجہ اس دعا کو زیادہ وسیع معنوں میں لینے کی یہ ہے کہ قرآن کریم سے تو پتا چلتا ہے کہ دنیا میں ہر جگہ خدا تعالیٰ نے وحی کے ذریعے اپنے پیغام بھیجے ، رسول مبعوث فرمائے، خوشخبریاں دینے والے بھیجے، ڈرانے والے بھیجے اور ان کی قوموں نے بھی ان سے ایسے سلوک کئے کہ بعض انعام پانے والی بن گئیں اور بعض مغضوب ہو گئیں اور بعض ضالین ٹھہریں تو اگر اس دعا کو یہود اور عیسائیوں کے ذکر پر ہی محدود کردیں گے تو ان مشرکین کا کیا بنے گا جنہوں نے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی سب سے زیادہ مخالفت کی اور جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ شرک نجس ہے اور ہر دوسری چیز کو خدا معاف فرما دے گا مگر شرک کو معاف نہیں فرمائے گا اور ان قوموں کا کیا بنے گا جو ہندوستان یا چین یا جاپان یا دوسری دنیا میں شرک میں مبتلا ہیں اور مبتلا رہی ہیں یا دوسرے کئی قسم کے ایسے گناہوں میں ملوث ہوئیں جو خدا کے اور بنی نوع انسان کے غضب کا نشانہ بنانے والے گناہ تھے اور پھر ان قوموں کا کیا بنے گا جو دنیا کے مختلف خطوں میں نئی دنیا میں یا پرانی دنیا میں پیدا ہوئیں اور خدا کے حضور ضالین ٹھہریں۔پس اس مضمون کو اتنے محدود تصور کے ساتھ اپنے ذہن میں نہ جمائیں بلکہ اس وسیع تصور کے ساتھ ذہن میں جمائیں اور ساری دنیا میں ہر وہ قوم جو بعض غلطیوں کی وجہ سے خدا کی نظر میں مغضوب ٹھہری اس سے بچنے کی دعا کریں اور ہر وہ قوم جو گمراہ ہو گئی اور اپنی بعض نیکیاں بھی قائم رکھیں لیکن بعض بدیوں میں بھی مبتلاء ہوئی۔اچھے بُرے کو ملا دیا اور اس طرح خدا نے انہیں گمراہ قرار دیا خواہ