خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 284
خطبات طاہر جلد ۱۰ 284 خطبه جمعه ۵/ اپریل ۱۹۹۱ء چاہتا ہوں جس طرح باغبان نے لمبے عرصے تک محنتیں کیں ، گٹھلیاں زمین میں گاڑھیں ، ان کے اردگر دزمین کی فلائی کی، اسے نرم کیا اور ہر قسم کی ضرورت پوری کی۔جب راتوں کو اٹھنا پڑا تو راتوں کو اٹھا، جب چلچلاتی دھوپ میں پودوں کی حفاظت کے لئے جانا پڑا تو چلچلاتی دھوپ میں ان کی حفاظت کے لئے گیا ، جب پانی کی ضرورت پڑی تو پانی سے ان کو سیراب کیا غرضیکہ لمبا عرصہ محنت کرتا چلا گیا۔ہر قسم کے جانوروں سے حفاظت کی ، ہر قسم کے چوروں اچکوں سے ان کی حفاظت کی۔اپنے بچوں کی طرح انہیں پالا پوسا یہاں تک کہ وہ درخت تیری رحمت کے سائے تلے بڑے ہوئے اور پھر اس تمام عرصہ میں وہ تجھ سے دعائیں کرتا رہا کہ اے خدا! اس درخت کو آسمانی آفات سے بھی بچا۔محنت تو میں نے کی لیکن پھل لانا تیرا کام ہے، تو اب ان درختوں کو شمر دارفرما دے۔پھر اس کی دعائیں مقبول ہوئیں اور پھر کثرت سے ان درختوں کو پھل لگے اے خدا! مجھے ان زمینداروں کا رستہ دکھا اور ان زمینداروں کے رستے پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔اب اس دعا کو آپ سارے زمیندارے کے مضمون پر پھیلا کے دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ آپ بہت ہی مشقتوں کی دعا مانگ رہے ہیں۔آپ یہ سوچ کر حیران ہوں گے کہ آپ نرم سے منہ سے مانگ بیٹھے ہیں۔اس صورتحال پر تو وہی شعر صادق آتا ہے کہ الا يا ايها الساقي ادركاسًا وناولها که عشق آساں نمود اول ولے افتاد مشکل ہا کہ اے ساقی ! پیالے کو چکر میں لا۔پیالے کا دور چلا اور مے گساروں کے ہاتھوں تک پہنچا دے۔کیوں اس کی ضرورت پیش آئی ؟ اس لئے کہ ہم شروع میں یہ سمجھتے تھے کہ عشق آسان ہے، ہم عشق کو عیش سمجھتے تھے، ہم سمجھتے تھے کہ عشق لڑائیں گے اور مزے اڑائیں گے۔ولے افتاد مشکل ہا، اب عشق آن پڑا ہے تو مصیبت آپڑی ہے۔اب سمجھ آئی ہے کہ عشق ہوتا کیا ہے اور اس کے لوازمات کیا ہیں۔پس یہ دعا مانگنا تو آسان ہے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ لیکن جب ان رستوں پر چلنے کی کوشش کریں گے اور اس دعا کے مفہوم کو پوری طرح سمجھیں گے تب سمجھ آئے گی کہ خدا سے کیا مانگ بیٹھے ہیں لیکن دنیا کے معشوقوں کی طرح کا یہ معشوق نہیں یہ حقیقی معشوق، مجازی معشوقوں سے بالکل مختلف ہے۔وہ تو اپنے عشاق کی مدد نہیں