خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 274 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 274

خطبات طاہر جلد ۱۰ 274 خطبہ جمعہ ۲۹ / مارچ ۱۹۹۱ء ہے وہ بھی تیری وجہ سے ہے اور تو نے بنایا ہے تو اچھا ہے۔جو کچھ ہم نے کمایا اس کمانے کی توفیق بھی تو نے ہی دی اور اس پہلو سے انسان جب اپنی ساری زندگی پر نظر ڈالتا ہے تو اس کو اتنے مواقع دکھائی دیں گے کہ جب وہ ہلاک ہو سکتا تھا اور اپنی کمزوریوں اور بدیوں کی وجہ سے ہلاک ہوسکتا تھا۔اگر خدا اس کی پردہ پوشی نہ کرتا تو ایسے مواقع بھی ہر انسان کی زندگی میں آتے ہیں کہ ایک دفعہ پر دے کا چاک ہونا اس کی ہلاکت کا سامان پیدا کر سکتا تھا، کچھ بھی اس کا باقی نہ رہتا۔پس جہاں یہ کیفیت ہو وہاں کوئی فَرِح فَخُود بے وقوف ہی ہوگا جو اپنی نیکی کے حوالے دے دے کر خدا سے مانگنے کا عادی بنے۔کہاں سے اتنی نیکیاں لائے گا جب کہ بدیوں کا پلہ اتنا بھاری ہے اور کہاں سے ایسی نیکیاں لائے گا جس کی جزاء خدا نے نہیں دی کیونکہ خدا کا تو سارا زندگی کا تعلق ان باتوں کی جزاء دکھائی دیتا ہے جو ہم نے کبھی کی نہیں۔یکطرفہ رحم کا سلوک ہے۔یکطرفہ احسان کا سلوک ہے اور لامتناہی ہے۔ہر ہر سانس خدا کے احسان کا ممنون ہے تو ایسی کیفیت میں حکمت کا تقاضا یہی ہے کہ آدمی کلیہ ہتھیار ڈال دے۔خالی ہاتھ اور نہتہ ہو جائے اور خدا کے حضور عجز اور انکسار سے دعائیں مانگے۔پس یہ وہ مفہوم تھا جو میں کھولنا چاہتا تھا یہ مراد نہیں۔نعوذ بالله من ذالك کہ حدیث نبوی کے کسی مضمون کے کوئی مخالف بات سمجھا رہا تھا بلکہ حدیث نبوی کے مضمون کے عین مطابق بات سمجھا رہا تھا اور یہی میں اب بھی سمجھاتا ہوں کہ جب دعائیں کریں تو اس کا آغاز حمد سے ہونا چاہئے اور حمد وہ جو آپ کے دامن کو بالکل خالی کر دے۔جو کچھ ہے وہ خدا کے حضور پیش کردیں لیکن دنیا کے کاروبار میں ہمیں بالعموم اس کے برعکس دکھائی دیتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ بعض انسان غفلت میں بلکہ میں سمجھتا ہوں بہت بڑی تعداد ہے جو خدا کی تعریف بھی کر رہے ہوتے ہیں تو ایسے برتن میں ڈالتے ہیں گویا چھلنی ہے نیچے ان کا اپنا برتن ہوتا ہے خدا کی تعریف چھلنی میں سے نکل نکل کر ان کے برتن کو بھرتی رہتی ہے اور خدا کی جو چھلنی ہے وہ خالی رہتی ہے۔اس کے برعکس خدا کے بعض مومن بندے ایسے ہیں جن کی تعریف کی جائے تو یوں لگتا ہے کہ وہ تعریف چھلنی پر گری ہے اور اس کے نیچے خدا کی حمد کا برتن پڑا ہے جو تعریف ان کی ہو خواہ ان کا اپنا نفس کسی وقت کرے یا غیر اس کی تعریف کرے وہ ان کے دل کی چھلنی سے نکل کر خدا کے دائمی برتن کی طرف منتقل ہوتی رہتی ہے۔یہ تعریف کا وہ تعلق ہے جسے سمجھنا چاہئے۔اگر ایک انسان صحیح معنوں میں خدا تعالیٰ کا