خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 275
خطبات طاہر جلد ۱۰ 275 خطبہ جمعہ ۲۹ / مارچ ۱۹۹۱ء عرفان حاصل کر چکا ہو۔(عرفان تو کوئی انسان صحیح معنوں میں مکمل طور پر کر ہی نہیں سکتا) میری مراد یہ ہے کہ عرفان کے حصول کا نکتہ سمجھ جائے تو وہ ہمیشہ محسوس کرے گا کہ جب وہ کسی کی تعریف کرے یا جب کوئی اس کی تعریف کرے تو وہ آخری مقام نہیں ہے بلکہ اس سے پرے ایک مقام ہے اور جو بھی تعریف کا مستحق نظر آتا ہے اس کے پیچھے ایک سمندر ہے جس کا وہ ایک معمولی حصہ ہے۔ویسا ہی ہے جیسا کہ غالب نے اپنے ایک شعر میں کہا ہے ا قطرہ میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کل کھیل بچوں کا ہوا دیدہ بینا نہ ہوا (دیوان غالب صفحہ:۵۹) کہ اگر تمہیں قطرے میں سمندر دکھائی نہیں دیتا یعنی کسی قابل تعریف بات میں تمہیں خدا تعالیٰ کی قابل حمد ذات دکھائی نہیں دے رہی اور یہ پتا نہیں لگتا کہ یہ قطرہ خدا کے سمندر کا ایک حصہ ہے تو یہ پھر دیدہ بینا نہیں ہے۔یہ تو بچوں کا ایک کھیل ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ غالب نے انہی معنوں میں یہ شعر کہا ہوگا لیکن مجھے تو صرف انہی معنوں میں یہ شعر اچھا لگتا ہے اور انہی معنوں میں تعریف کے لائق بھی ہے کیونکہ یہ شعر خدا کی تعریف سے منسلک ہو جاتا ہے۔پس یہ وہ معنی ہیں جس کو محوظ رکھتے ہوئے حمد کرنی چاہئے اور خوبصورت چیزوں پر نگاہ کرنی چاہئے اور خوبصورت چیزوں سے محبت کرنی چاہئے یعنی وہ محبت ان تک ٹھہر نہ جائے بلکہ ان کے وجود سے پار نکل جائے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نظم ہے کس قدر ظاہر ہے نور اس مبداء الانوار کا بن رہا ہے سارا عالم آئینہ ابصار کا کہ دیکھو عالم میں کیسا خوبصورت نور پھیلا پڑا ہے۔جیسے چاندنی راتوں میں ہمیں مشرق میں تجربہ ہے، ویسی چاندنی راتیں مغرب میں نہیں دیکھی جاتیں۔وہ منظر ہی اور ہوتا ہے جو مشرق میں چاند ابھرتا ہے یا کسی ٹھنڈے دن خوبصورت دھوپ مغرب میں نکلتی ہے تو اس وقت دن کی روشنی کا جو لطف آتا ہے وہ مشرق میں کم دکھائی دیتا ہے۔کسی کو خدا نے راتیں خوبصورت دی ہیں کسی کو دن خوبصورت دیدیئے ہیں۔اگر نظر وہیں ٹھہر جائے اور ایک روز مرہ کے انگریز کی طرح آپ یہ کہیں What a beautiful morning اور وہیں بات کھڑی ہو جائے تو یہ غفلت ہے لیکن