خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 273
خطبات طاہر جلد ۱۰ 273 خطبہ جمعہ ۲۹ / مارچ ۱۹۹۱ء اس حدیث کو میں اس نظر سے دیکھتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ ان بندوں کی خوبی یا ان کی چالا کی نہیں بتار ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور عظمت کا بیان فرمارہے ہیں۔یہ بتارہے ہیں کہ ایسے تہی دامن لوگ جن کو ساری زندگی پر نظر ڈالنے کے بعد وہ نیکی دکھائی دی جو عام معیار سے کوئی خاص نیکی بھی نہیں کسی معصوم عورت کی عزت نہ لوٹنا بھلا کونسی نیکی ہے اور فاقہ کشی کے وقت میں، ایسے وقت میں جب کہ انسان کا دل نرم ہو چکا ہوتا ہے اور نرم ہونے کے بعد بجائے کسی اجرت کی طلب کے ویسے ہی انسان جو کچھ گھر میں ہے وہ غریبوں کے لئے خرچ کرنا چاہتا ہے۔ایسے سخت تکلیف کے دور میں کسی کی عزت کا سودا نہ کرنا یہ کون سی نیکی ہے۔صلى الله پس آنحضرت ﷺ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ایسے تہی دامن اور گنہ گار لوگ جن کی ساری زندگی میں کوئی نیکی نہیں تھی اور ایک بدی سے بچنا ہی گویا ان کی نیکی تھی۔جب اس کا حوالہ دیا گیا تو اللہ اتنا رحمان ہے اور اتنا رحیم اور اتنا بخش کرنے والا ہے کہ اس نے کہا۔ہاں میرے بندے! اگر یہ نیکی ہے تو یہ بھی قبول ہے ، اگر یہ ہے تو یہ بھی مقبول ہے گویا وہ مضمون یہ ہے کہ خدا تو کھوٹے پیسوں سے بھی بعض دفعہ آنکھیں بند کر لیتا ہے۔اتنا بخشش کرنے والا۔اتنا التجاؤں کو قبول کرنے والا ہے کہ اس سے اگر تم ہمیشہ دعا کے تعلق سے اپنے محبت کے رشتے مضبوط نہ کرتے رہو تو تمہاری محرومی ہے۔وہ تو ہر وقت قریب ہے۔ہر وقت سننے کے لئے تیار بیٹھا ہے۔پس یہ وہ مضمون ہے جس کو بعض لوگ غلط سمجھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں بھی اپنی نیکیوں کے حوالے سے خدا تعالیٰ سے دعائیں کرنی چاہئیں وہ پتھر تو ان کی زندگی میں ایک دفعہ گرا لیکن میں جانتا ہوں کہ ہماری زندگی میں مصیبتوں کے پتھر روز گرتے رہتے ہیں۔کون انسان ہے جو اس تجربے سے نہیں گزرتا۔کوئی دن ایسا نہیں آتا جو کسی نہ کسی پہلو سے تلخیاں لے کر نہیں آتا۔کبھی اپنا غم کبھی کسی دوست کا غم کبھی رشتے دار کی تکلیف ،کبھی دشمن کی طرف سے ڈراوے اور کئی قسم کے خوف کبھی عالمی خوف کبھی علاقائی خوف، انسان کی ساری زندگی تو مصیبت کے پتھروں میں گری پڑی ہے اپنی کتنی نیکیاں آپ ڈھونڈ نکالیں گے کہ وہ پتھر سر کنے شروع کریں۔ایک ہی علاج ہے اور وہ علاج وہ ہے جو انبیاء نے ہمیں سکھایا ہے کہ خدا کے حضور کامل بجز اور انکسار کے ساتھ حاضر ہوں۔اپنی نیکیوں پر انحصار کر کے دعائیں نہ مانگو۔خدا کے فضلوں پر انحصار کر کے دعائیں مانگو اور اللہ تعالیٰ سے کہو کہ ہم تہی دامن ہیں۔سب تعریف تیرے لئے ہے جو کچھ ہمیں اچھا دکھائی دیتا