خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 243
خطبات طاہر جلد ۱۰ 243 خطبه جمعه ۱۵/ مارچ ۱۹۹۱ء کچھ سکھایا ہوا ہے اور یہ تو بہت محدود سا ذکر ہے۔بے شمار ایسے راز ہیں جو سورہ فاتحہ میں خزانوں کی طرح دفن ہیں۔آپ ان کو پاتے چلے جائیں ، ان پر غور کرتے چلے جائیں خدا ان کو ظاہر فرما تا چلا جائے گا۔ہم اپنے غور سے نہیں پاسکتے مگر دل کو جتنا پاک کرتے چلے جائیں گے اللہ تعالیٰ خود آپ پر یہ مضامین ظاہر فرماتا چلا جائے گا۔لَّا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقع : ۸۰) کے مضمون کو پیش نظر رکھیں کہ سوائے ان لوگوں کے جن کو خدا پاک کر دیتا ہے کوئی قرآن کریم کے مضامین کو چھو نہیں سکتا۔پس کسی چالا کی کی ضرورت نہیں ہے۔انسانی ذہن مختلف قسم کے ہیں۔کوئی زیادہ قابل، کوئی کم قابل کوئی زیادہ عالم کوئی کم عالم لیکن سورہ فاتحہ کے مضمون کو سمجھنے کے لئے دل کے پاک ہونے کی ضرورت ہے اور دل کلیاً پاک ہو نہیں سکتا سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ پاک کرے اور جتنا پاک کرے وہی کرے۔تو قرآن کریم نے یہاں یہ نہیں فرمایا کہ لَّا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ که صرف پاک لوگ اس کتاب کے مضمون کو چھو سکتے ہیں بلکہ فرمایا لَّا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ وہی لوگ اس کے مضمون کو چھو سکتے ہیں جنہیں پاک کیا جاتا ہے اور پاک کرنے والا خود خدا ہے۔پس جتنا آپ سورہ فاتحہ کے مضمون پر غور کرتے ہوئے آگے بڑھیں گے ، تان اس بات پر ٹوٹے گی کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ اے خدا! ہم نے خوب سیر کی ، خوب لطف اٹھائے لیکن بہت کچھ دیکھنا باقی ہے اور جو کچھ دیکھا اس سے فائدہ اٹھانا باقی ہے۔اسے مستقلم اپنے وجود کا حصہ بنالینا باقی ہے۔پس اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں۔إيَّاكَ نَسْتَعِین اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں۔پھر مختلف نظاروں کے ساتھ ہی نہیں، مختلف اوقات کے ساتھ بھی سورہ فاتحہ کا مضمون بدلتا چلا جاتا ہے اور خدا کی حمد مختلف صورتوں میں ہمارے سامنے ظاہر ہوتی ہے۔فرمایا: وَسَبِّحْ بِحَمدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا (طہ: ۱۳۱) کہ اللہ کی حمد ، اس کی پاکیزگی بیان کرتے ہوئے کیا کرو۔قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمس سورج نکلنے سے پہلے اور سورج غروب ہونے سے پہلے۔یہ دو مختلف بدلتی ہوئی حالتیں ہیں، ان سب کا تعلق ربوبیت کے ساتھ ہے کہ وَسَبِّحْ بِحَمد ربك فرمایا۔اس مضمون کو بھی سائنس دانوں نے جتنا کھنگالا ہے اتنا ہی اس کے پیچھے