خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 244
خطبات طاہر جلد ۱۰ 244 خطبه جمعه ۱۵/ مارچ ۱۹۹۱ء ان کو عظیم معرفتوں کے خزانے دکھائی دیتے ہیں۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ سورج کا نکلنا اور سورج کا غروب ہونا اور وہ نظام جس کے ساتھ سورج کے نکلنے اور غروب ہونے کا تعلق ہے، یہ زندگی کی Support کے لئے اور زندگی کو یہاں قائم رکھنے کے لئے انتہائی ضروری ہے۔اگر سورج کا یہ نکلنا اور غروب ہونا نہ ہوتا تو اس کرہ ارض پر زندگی پیدا ہو ہی نہیں سکتی تھی۔زندگی پیدا ہو بھی جاتی تو مر جاتی اور اس کے باقی رہنے کا کوئی سوال پیدا نہ ہوتا۔اب یہ جوفر مایا کہ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا تو اس میں غور کرنے کی کھڑکیاں ہمارے سامنے کھول دیں۔فرمایا کہ موسموں کے بدلنے پر غور کرو۔دن اور رات کے بدلنے پر غور کرو۔ان کی بدلتی ہوئی نسبتوں پر غور کرو اور یہ معلوم کرو کہ سورج نکلنے سے پہلے پہلے وہ کیا تغیرات بر پا ہور ہے ہوتے ہیں جور بوبیت کے جلوے تم تک پہنچانے میں مددگار ہوتے ہیں یا جن کے ذریعے ربوبیت اس دنیا میں جلوہ گر ہوتی ہے اور سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے کون سے تغیرات لازم ہوتے ہیں جو سورج کو غروب کرنے پر مجبور کرتے ہیں ورنہ زندگی اس دنیا میں باقی نہ رہ سکتی اور ربوبیت کا نظام درہم برہم ہو جاتا۔پس سورج کے طلوع سے بھی ربوبیت کا تعلق ہے اور سورج کے غروب سے بھی ربوبیت کا تعلق ہے اور وقت کے بدلنے کے ساتھ ربوبیت مختلف رنگ میں جلوہ گر ہے۔اب جیسا کہ میں نے اشارہ آپ کو بتا دیا ہے کہ سائنس دانوں نے اس مسئلے پر بھی غور کیا ہے اور تمام دنیا کے سائنس دان جو اس مضمون سے تعلق رکھتے ہیں ، اس بات پر متفق ہیں کہ موسموں کے ادلنے بدلنے اور دن کے ادلنے بدلنے کا زندگی کے ساتھ اتنا گہرا رابطہ ہے اور زندگی کے قائم رہنے اور اس کی ترقی کے ساتھ اتنا گہرا رابطہ ہے کہ اس میں اگر آپ تھوڑ اسا تغیر و تبدل بھی کر دیں تو یہ رابطے ٹوٹ جائیں اور یہ کرہ ارض جس پر ہم بستے ہیں یہ زندگی کے بسانے کے لائق نہ رہے۔پس NAKANDALANGUAGE DATA NANGANAKANET میں ان تمام صفات حسنہ کا بھی ذکر آگیا جن کا موسموں کے تغیر و تبدل سے تعلق ہے اور موسموں کے تغیر و تبدل کے ساتھ بہت گہرے مضامین وابستہ ہیں۔بے شمار صفات کا اس سے تعلق ہے تو اپنے علم کے مطابق ہم ربوبیت کے نئے مضامین پر اطلاع پاسکتے ہیں اور جتنا ہم علم بڑھائیں گے اتنا ہی زیادہ ہم دنیا میں خدا تعالیٰ کی سیر کریں گے۔سیر فی اللہ جو صوفیوں کی اصطلاح ہے اس کا یہ مطلب ہے کہ اللہ کی ذات میں سیر