خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 242 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 242

خطبات طاہر جلد ۱۰ 242 خطبه جمعه ۱۵/ مارچ ۱۹۹۱ء یہ تو زندگی کو سہارا دینے کا مضمون ہے یعنی ربوبیت کا وہ مضمون جو زندگی پیدا ہونے کے بعد جاری ہوتا ہے۔پس يُسَبِّحُ الرَّعْد میں دیکھیں خدا تعالیٰ نے کیا کیا با تیں ہمیں دکھائیں لیکن اس کا تعلق زندگی کے آغاز سے بھی ہے۔وہ تمام سائنس دان جنہوں نے زندگی کی پیدائش پر غور کیا ہے اور دنیا میں لاکھوں سائنس دان ہیں جن کے دن رات اس بات پر وقف ہیں وہ معمہ حل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور اب بھی کر رہے ہیں کہ زندگی کا آغاز کیسے ہوا تھا۔اس بات پر وہ سب بہر حال متفق ہو چکے ہیں کہ اگر غیر معمولی طور پر طاقت ور آسمانی بجلیاں سمندری پانیوں پر نہ گرتیں تو زندگی کا وہ مادہ پیدا ہو ہی نہیں سکتا تھا جس سے آگے زندگی نے وجود پکڑنا تھا۔وہ اینٹیں نہیں بن سکتی تھیں جن سے زندگی نے تعمیر ہونا تھا۔پس يُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمدِہ کا مضمون صرف موجودہ زمانے سے نہیں آئندہ زمانوں سے نہیں بلکہ ابتدائے آفرینش سے بھی ہے یعنی ابھی زندگی وجود میں ہی نہیں آئی تھی تو بجلی گویا ہم پر ہنس رہی تھی کہ بے وقوفوا تم مجھے سمجھا کرو گے کہ میں تو جلانے اور ہلاک کرنے والی چیز ہوں حالانکہ میری وجہ سے زندگی کا آغاز ہوا ہے۔مجھے خدا نے تمہیں پیدا کرنے کے لئے اور کائنات میں ہر قسم کی زندگی کی صورتیں پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا ہے۔تو دیکھیں ، اللہ تعالیٰ کی کیا شان ہے۔صرف ایک آیت کے ایک حصے پر کچھ غور کریں تو آپ کو خدا تعالیٰ کی کتنی صفات دکھائی دیں گی اور پھر انسان بعض دفعہ یہ سوچتا ہے کہ کیسے ممکن ہے کہ سورہ فاتحہ میں خدا تعالیٰ کی ننانوے صفات کا ذکر ہو حالانکہ يُسبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمدِہ میں جن علوم کی طرف اشارہ ہے، جن صفات حسنہ کی طرف اشارہ ہے، جن کے بغیر يُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمدِم کا مضمون پیدا ہی نہیں ہوتا وہی ننانوے سے زیادہ ہیں بلکہ اگر آپ غور کریں تو ننانوے ہزار 99000 سے بھی زیادہ دکھائی دیں گی۔پس یہ سورۃ فاتحہ ہے جس کو آپ غور سے سمجھنے کی کوشش کریں اور اس مضمون کو اپنے دل پر جاری کریں، اس میں ڈوبنے کی کوشش کریں، اسے کشتی بنا ئیں اور اس میں ذات باری تعالیٰ کی سیر کریں تو یہ وہ سفینہ ہے جو ایک بے کنار سمندر میں ہمیشہ ہمیش کے لئے سفر کرتا رہے گا اور کبھی آپ کو کوئی کنارہ دکھائی نہیں دے گا۔پس اللہ تعالیٰ نے سورہ فاتحہ جیسی نعمت جس قوم کو عطا فرما دی ہو وہ بہر حال یہ نہیں کہہ سکتی کہ اے خدا ! عبادت تو تو نے فرض کر دی اور کم سے کم پانچ وقت روزانہ کے لئے فرض کر دی لیکن ہمیں یہ نہ بتایا کہ اس عبادت کو کس طرح لذت سے بھریں، کیونکہ سورہ فاتحہ نے سب