خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 208
خطبات طاہر جلد ۱۰ 208 خطبہ جمعہ ۱۸ مارچ ۱۹۹۱ء میں سمجھوتے سے باتیں طے کی جاسکتی ہیں۔اگر یہ نہ کیا گیا اور اسی طرح سکھوں کے ساتھ صلح نہ کی گئی اور دیگر اندرونی مسائل طے نہ کئے گئے تو علاقے میں کبھی امن قائم نہیں ہوسکتا۔اور پاکستان کے اندر جو درست ہونے والے توازن ہیں مثلاً سندھی، پنجابی، پٹھان وغیرہ وغیرہ پھر مذہبی اختلافات ہیں یہ سارے مسائل ہیں جو بارود کی طرح ہیں یا آتش فشاں پہاڑ کی طرح ہیں کسی وقت بھی پھٹ سکتے ہیں اور یہی وہ مسائل ہیں جن سے دیگر قو میں فائدہ اٹھایا کرتی ہیں۔پس پیشتر اس کے کہ دیگر قوموں کو فائدے کا موقع ملے آپ اپنے ملک کی اندرونی حالت کو درست کریں۔ہمسایوں کے ساتھ بھی تعلقات درست کریں۔اور اس کے نتیجے میں آپ کو سب سے بڑا فائدہ یہ پہنچے گا کہ توجہ اقتصادی حالت کو بہتر بنانے کی طرف ہو جائے گی۔آپس میں اشتراک عمل کے ساتھ وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقوی کی روح کے ساتھ مذہب کو بیچ میں لائے بغیر ہر اچھی چیز پر دوسری قوم کے ساتھ تعاون کے امکانات پیدا ہو جائیں گے اور فوج کا خرچ کم ہو جائے گا اور فوج کا خرچ جتنا کم ہوگا اور اقتصادیات جتنا ترقی کرے گی اتنے ہی امکانات پیدا ہوں گے کہ غریب کی حالت بہتر ہو جائے۔امر واقعہ یہ ہے کہ میں نے امکانات کہا ہے اس لئے کہ غریب کی حالت بہتر کرنے کے لئے یہ ساری چیزین کافی نہیں جب تک اوپر کے طبقے کی سوچ صحت مند نہ ہو۔اگر اوپر کے طبقے کی سوچ بیمار ہے اور بے حسی ہے اور بے حیائی ہے اور عظیم الشان ہوٹل بنتے چلے جارہے ہیں اور ریسٹورنٹ کے بعد ریسٹورنٹ قائم ہورہا ہے اور ایک سوسائٹی ہے جو سرے شام سے شروع ہو کر رات گئے تک ان ریسٹورنٹس کے چکر لگاتی ہے اور ہوٹلوں کے چکر لگاتی ہے اور عیش و عشرت میں مبتلا رہتی ہے اور لاہور چمک رہا ہوتا ہے کراچی جگمگا رہا ہوتا ہے اگر یہی رجحان جاری رہا اور کسی کی نظر اس طرف نہ گئی کہ ان روشنیوں کے نیچے ایسے ظالم اندھیرے ہیں کہ ان اندھیروں میں تھوڑی دیر بھی آپ جھانکیں تو ان کے اندر کلبلاتی ہوئی انسانیت کی ایسی دردناک شکلیں نظر آئیں گی کہ اس سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ایک چھوٹی سی مثال میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔میری بیٹی عزیزہ فائزہ جب قادیان جلسے پر گئی تو واپسی پر اٹاری اسٹیشن پر گاڑی پکڑنے لگی دو بچے بھی ساتھ تھے۔کھانے کے لئے چیزیں نکالیں تو وہاں چھوٹے چھوٹے غریب بھو کے بچوں کا ایک ہجوم آگیا اور وہ کہتی تھی کہ