خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 207 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 207

خطبات طاہر جلد ۱۰ 207 خطبہ جمعہ ۱۸ مارچ ۱۹۹۱ء جاسکتی ہے۔اس ضمن میں جاپان کو بھی ساتھ شامل کرنے کی ضرورت ہے۔تیسری دنیا کے ملکوں کو کھل کر جاپان سے یہ بات طے کرنی چاہیئے کہ تم تیسری دنیا میں رہنا چاہتے ہو یا اپنے آپ کو ایک مغربی ملک شمار کرنے لگے ہو۔اگر تیسری دنیا میں رہتا چاہتے ہو تو تمہارے لئے ضروری ہے کہ تیسری دنیا کے مسائل طے کرنے میں ، خصوصاً اقتصادی مسائل طے کرنے میں بھر پور تعاون کرو بلکہ راہنمائی کرو اور قائدانہ کردار ادا کرو۔ورنہ نہ تم ہمارے رہو گے نہ سفید فام قوموں میں شمار کئے جاؤ گے۔اگر ہم اندرونی مسائل کے مضمون کی طرف لوٹتے ہوئے بات شروع کریں تو کشمیر کے سلسلے میں میں سمجھتا ہوں کہ تین حل ایسے ہیں جن پر غور ہونا چاہئے۔موجودہ صورتحال تو ہرگز قابل قبول نہیں ہے۔اگر یہ صورتحال مزید جاری رہی تو دونوں ملک تباہ ہو جائیں گے۔اس مسئلے کا ایک حل تو یہ ہے کہ آزاد کشمیر اور جموں اور کشمیر کو پہلے یہ موقعہ دیا جائے کہ وہ یہ فیصلہ کریں کہ تم تینوں مل کر اکٹھا رہنا چاہتے ہو یا آزاد کشمیر پاکستان کے ساتھ مل جائے اور جموں ہندوستان کے ساتھ مل جائے اور وادی کشمیر الگ ہو جائے دوسرا حل یہ ہو سکتا ہے کہ وادی کشمیر الگ آزاد ہوا اور یہ دونوں ملک الگ الگ آزاد ہوں۔جس کو ہم آزاد کشمیر کہتے ہیں الگ آزاد ہو اور تیسری صورت یہ ہے کہ وہ تینوں مل کر ایک ملک بنا ئیں۔پس تین امکان ہوئے آزاد کشمیر ا لگ ملک جموں الگ ملک اور وادی کشمیر الگ ملک۔دوسری صورت تینوں کا ایک ملک اور تیسری صورت یہ کہ آزاد کشمیر پاکستان کے ساتھ مل جائے۔جموں ہندوستان کے ساتھ مل جائے اور کشمیر ایک الگ ریاست کے طور پر نیا وجود حاصل کرے یہ موقع تفصیلی بحث کا تو نہیں ہے۔یہ فیصلہ تو ان قوموں نے خود کرنا ہے۔ان کا وہی حق ہے لیکن میں جہاں تک سمجھا ہوں، یہ تیسر احل جو ہے یہ زیادہ موزوں رہے گا اور علاقے میں امن کے لئے بہت بہتر ثابت ہوگا۔کیونکہ آزاد کشمیر کے لوگ ہم مزاج ہیں اور ایک ہی جیسے مزاج کے لوگ ہیں جن کا وادی کے کشمیریوں سے مختلف مزاج ہے۔وادی کے کشمیریوں کا ایک الگ مزاج اور ایک الگ تشخص ہے اور جموں کے لوگوں کا ایک بالکل جدا گانہ تشخص ہے اور مذہبی لحاظ سے بھی وہ ہندوستان کے قریب تر ہیں۔پس اگر استحکام چاہئے تو غالبا یہ حمل سب سے اچھا رہے گا لیکن اس شرط کے ساتھ وہاں آزادی ہونی چاہئے کہ آزاد ملک اس بات کی ضمانت دے کہ کسی طاقتور ملک کے ساتھ الگ سمجھوتے کر کے ہندوستان اور پاکستان کے امن کے لئے خطرہ نہیں بن سکے گا۔اس کے لئے آپس