خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 209 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 209

خطبات طاہر جلد ۱۰ 209 خطبہ جمعہ ۸ / مارچ ۱۹۹۱ء صاف نظر آتا تھا کہ بھوکے ہیں۔صرف پیشہ ور بھکاری نہیں ہیں۔چنانچہ اس نے وہ کھانا ان میں تقسیم کیا پھر اس کے بعد قادیان سے جو دوستوں نے تحفے دیئے ہوئے تھے ، کھانے پینے کی چیزیں وغیرہ، وہ نکالیں ، وہ تقسیم کیں اور جو بات میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں وہ یہ نہیں کہ اس نے تقسیم کیں یہ تو ہر انسان جس کے سینے میں انسانی دل دھڑک رہا ہو وہ یہی کرے گا لیکن جو خاص بات قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ ان غریبوں میں بھی انسانیت کا اعلیٰ معیار پایا جاتا ہے۔انسانیت ان غریب ملکوں میں چھوٹی سطح پر زیادہ ملتی ہے بہ نسبت اونچی سطح کے۔اس نے بتایا کہ جب سب کچھ تقسیم ہو کے ختم ہو گیا تو میرے پاس ایک کوکا کولا کا ایک ٹن (Tin) تھا ، میں نے کہا وہ بھی ان کو پلاؤں تو ایک بڑی بچی کو دے دیا۔اس نے ایک گھونٹ پیا اور پھر ایک ایک بچے کو ایک ایک گھونٹ پلاتی تھی اور گھونٹ پلانے کے بعد اس طرح اس کے چہرے پر طمانیت آتی تھی جس طرح ماں بھو کے بچے کو دودھ پلا کر تسکین حاصل کرتی ہے اور مسکرا کے ان کی طرف دیکھتی تھی کہ دیکھیں کیسا مزا آیا اور بچوں کی قطار لگ گئی ایک کے بعد ایک کوکا کولا کا ایک گھونٹ پیتا تھا اور سمجھتا تھا اس کو آب حیات مل گیا ہے۔اس کے بعد جب گاڑی چلنے لگی تو پولیس کے روکنے کے باوجود، دھکے کھانے کے باوجود یہ بچے اتناممنون احسان تھے کہ گاڑی کے ساتھ دوڑتے چلے جاتے تھے اور سلام کرتے چلے جاتے تھے یہاں تک کہ نظر سے اوجھل ہو گئے۔جب وہ مجھ سے واقعہ بیان کر رہی تھی ، اس وقت میں نے سوچا کہ میں نہیں کہہ سکتا کہ میں اپنی اس بچی کو زیادہ پیار سے دیکھ رہا ہوں یا وہ بھوکے بچے جنہوں نے احسان کے بعد اس کو پیار سے دیکھا تھا اور میں نے سوچا کہ زندگی میں بعض ایسے لحات بھی آتے ہیں جب انسانی قدریں خونی رشتوں پر غالب آجایا کرتی ہیں اور انسانی تاریخ میں انسانی تعلقات کے خونی رشتوں پر غالب آنے کا سب سے بڑا دور حضرت اقدس محمد اللہ کے عہد میں آیا بلا شبہ وہ ایک ایسا دور تھا کہ ہر خونی رشتہ ثانوی حیثیت اختیار کر گیا تھا اور انسانی قدروں کی عظمت کو محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اتنا بلند کر دیا تھا کہ مکارم الاخلاق پر آپ کا قدم تھا۔وہ دور ہے جسے واپس لانے کی ضرورت ہے یہ انسانی قدریں ہیں جو تیسری دنیا کو بچائیں گی۔یہ قدریں تو آپ کے قدموں کے نیچے پامال ہورہی ہیں اور خدا کی تقدیر بڑی قوموں کے قدموں کے نیچے آپ کو پامال کرتی چلی جارہی ہے۔کیوں خدا کی تقدیر کے اس اشارے کو آپ نہیں سمجھتے۔