خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 200
خطبات طاہر جلد ۱۰ 200 خطبہ جمعہ ۸ / مارچ ۱۹۹۱ء سب سے اہم بن جائے گا۔جرمنی ایک نئی اقتصادی قوت کے طور پر ابھرے گا اور مشرقی یورپ کے اور بہت سے ممالک جرمنی کے ساتھ اس معاملے میں اتحاد کریں گے اور ان سب کی اجتماعی اقتصادی پیداوار نئی منڈیوں کی متقاضی ہوگی۔پس تیسری دنیا کے تمام ممالک کے لئے ہولناک خطرات در پیش ہیں۔یورپ بھی جاگ رہا ہے اور امریکہ بھی جاگ رہا ہے اور ان سب کے اتحادی مقاصد تیسری دنیا پر اس طریق پر مکمل اقتصادی قبضہ کرنے کے ہیں کہ جس کے بعد صرف سسک سسک کر دم لینے والی زندگی باقی رہ جائے گی۔عزت کے ساتھ دو وقت کی روٹی کھا کر زندہ رہنے کا تیسری دنیا کی قوموں کے لئے کوئی سوال باقی نہیں رہے گا۔افریقہ کے بعض ممالک ہیں جو ابھی اس حالت کو پہنچ چکے ہیں کہ جہاں ان کے لئے سانس لینا بھی دوبھر ہورہا ہے۔پس اقتصادی تعاون کی مختلف منڈیاں بنی ضروری ہیں۔مثلاً پاکستان اور ہندوستان اور بنگلہ دیش اور سری لنکا ، یہ ایک ایسا خطہ ہے جس میں قدرتی طور پر اقتصادی تعاون کی منڈی بنانے کا امکان موجود ہے اور تبھی ممکن ہے اگر ان کے اندرونی مسائل حل ہوں۔اگر اندرونی مسائل حل نہ ہوں تو یہ نہ یہ اقتصادی منڈیاں بن سکتی ہیں نہ موجودہ تکلیف وہ صورتحال کا کوئی دوسرا حل ممکن ہے موجودہ تکلیف دہ صورتحال سے مراد وہ صورتحال ہے جو میرے ذہن میں ہے کہ اس کے نتیجے میں آپ جب اس پر مزید غور کریں گے تو آپ یہ دیکھ کر حیران ہوں گے کہ ہمیشہ کے لئے تیسری دنیا کے ان ممالک کا اپنی مصیبتوں سے نجات پانے کا ہر رستہ بند ہوا ہے۔ان کے لئے کوئی نجات کی راہ نہیں ہے اور آنکھیں بند کر کے یہ اسی طرز فکر پر قائم ہیں، اس قسم کے مسائل کو حل کرنے کی ان کی کوششیں ہیں جن کے اندر حل ہونے کی کوئی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ایسے بندر ستے ہیں جن سے آگے گزرا جاہی نہیں سکتا۔چنانچہ وہ مسائل یہ ہیں۔مثلاً کشمیر کا مسئلہ ہے۔کشمیر کے مسئلے کے نتیجے میں ہندوستان اور پاکستان میں جو رقابتیں پیدا ہوچکی ہیں ان رقابتوں کے نتیجے میں یہ اتنی بڑی فوج پالنے پر مجبور ہیں کہ جس کے بعد دنیا کا کوئی ملک اقتصادی طور پر آزادی سے زندہ نہیں رہ سکتا۔ساٹھ فیصدی سے زائد جس قوم کی اجتماعی دولت فوج پالنے پر خرچ ہورہی ہو اس کے حصے میں دنیا میں وقار کی زندگی ہے ہی نہیں، اس کے لئے مقدر ہی نہیں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جو اقتصادی لحاظ سے اپنی طاقت سے بڑھ کر دفاع پر خرچ کرتا ہے اسے بھیک مانگنا لازم ہے اس کی بقاء کے لئے ضروری ہے کہ وہ اقتصادی