خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 199 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 199

خطبات طاہر جلد ۱۰ 199 خطبہ جمعہ ۸ / مارچ ۱۹۹۱ء کرتا کہ سیاسی وحدت کا تصور پہلے ہو اور اقتصادی اور دوسری وحدتوں کا تصور بعد میں آئے جب سیاسی وحدت کے تصور کو پہلے رکھا جاتا ہے تو باقی وحدتوں کو بعض دفعہ شدید نقصان پہنچتا ہے۔اس لئے یورپ کی کامن مارکیٹ بناتے ہوئے یہاں کے ذی شعور لیڈروں نے پہلے اقتصادی تعاون کے مقاصد کو حاصل کرنے کے بعد رفتہ رفتہ سیاسی وحدت کی طرف قدم اٹھایا ہے۔Pan Arabism کی تحریک جس کا میں نے ذکر کیا ہے دراصل اس کا آغاز صدر جمال ناصر سے بہت پہلے جمال الدین افغانی نے کیا تھا اور یہ انہیں کا فلسفہ ہے جس کو اپنا کر بعد میں یہ تحریکات آگے بڑھیں پس جمال الدین افغانی کا یہ تصور کہ عرب کو متحد ہو جانا چاہئے بلکہ عالم اسلام کو متحد ہو جانا چاہئے ، ایک ایسا تصور ہے جو اس شکل میں مسلمانوں کو قبول ہی نہیں ہوسکتا۔نہ قرآن کریم نے تمام مسلمانوں کے ایک حکومت کے اندر ا کٹھے ہونے کا کہیں کوئی تصور پیش کیا ہے۔اس شکل میں تو عرب وحدت بھی حاصل ہونا ناممکن ہے سوائے اس کے کہ مختلف قدموں اور مراحل میں حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔پس سب سے اہم قدم اقتصادی وحدت کا ہے جس میں مشترکہ لائحہ عمل ہو، مشترکہ منصوبے بنائے جائیں اور اس سارے خطے کو خصوصیت کے ساتھ خوراک میں خود کفیل بنانے کے منصوبے ہوں اور انڈسٹری میں یعنی صنعت و حرفت میں خود کفیل بنانے کے منصوبے ہوں تب ان ممالک کی آزادی کی کوئی ضمانت دی جاسکے گی۔اس ضمن میں ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اقتصادی آزادی کا تعلق صرف اس خطے سے نہیں ہے بلکہ تمام دنیا کی تیسری قوموں کے ساتھ ہے اور ان کے لئے ایک شدید خطرہ درپیش ہے جس کو ابھی سے پوری طرح سمجھنا چاہئے اور اس کے لئے انسدادی کا رروائیاں کرنی نہایت ضروری ہیں۔New Imperialism یعنی جدید استعماریت کا خطرہ ہے۔روس کے ساتھ صلح ہونے کے بعد وہ مشرقی دنیا جو اشترا کی نظریات کی حامل تھی وہ اپنے نظریات کو تج کر کے تیزی کے ساتھ پرانے زمانے کی طرف لوٹ رہی ہے اور اب نئے مقابلے استعماریت کے لحاظ سے ہوں گے۔جب روس نے موجودہ مشکلات سے سنبھالا لے لیا اور ان پر جب عبور پالیا تو اس کے بعد روس کے لئے اقتصادی مقابلے کے لئے ان سے منڈیاں چھینے کا مسئلہ