خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 201 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 201

خطبات طاہر جلد ۱۰ 201 خطبہ جمعہ ۱۸ مارچ ۱۹۹۱ء لحاظ سے بھی دنیا سے بھیک مانگے اور فوجی طاقت کو قائم رکھنے کے لئے بھی دنیا سے بھیک مانگے۔پس ہندوستان اور پاکستان کو بھکاری بننے کی جو لعنت ملی ہوئی ہے یا اس لعنت میں وہ مبتلا ہیں کہ مشرق و مغرب جہاں بھی توفیق ملے وہ ہاتھ پھیلا کر پہنچ جاتے ہیں کہ ہمیں کچھ بھیک دو۔تو اس کی بنیادی وجہ آپس کے یہ اختلافات ہیں۔آخری قضیئے میں اس کے سوا کوئی صورت نہیں بنتی۔پس مسئلہ کشمیر اور اس قسم کے دیگر مسائل کو حل کرنے کے نتیجے میں ان علاقوں میں انقلاب بر پا ہو سکتا ہے اور اس کے علاوہ کچھ اور بھی چیزیں ہیں جن پر عملدرآمد ضروری ہے ، صرف ہندوستان اور پاکستان کے لئے ہی نہیں باقی مشرقی دنیا کے لئے بھی خواہ وہ ایشیا کی ہوایا افریقہ کی ہو، اسی طرح جنوبی امریکہ میں بھی ایسے ہی مسائل ہیں ، ہر جگہ یہی مصیبت ہے کہ علاقائی اختلافات کے نتیجے میں عدم اطمینان ہے ، عدم اعتماد ہے اور ہر جگہ تیسری دنیا کے غریب ملک اپنی خود حفاظتی کے لئے اتنازیادہ خرچ کر رہے ہیں کہ امیر ملک اس کا دسواں حصہ بھی نہیں کر رہے۔جن کو توفیق ہے وہ تو ۳ فیصد سے ۴ فیصد کی بات کرتے ہیں۔4 سے 5 کی اور جب 7 فیصد خرچ پہنچ جائے تو اس پر خوفناک بخشیں شروع ہو جاتی ہیں اتنا زیادہ دفاع پر خرچ ہورہا ہے ، ہم برداشت نہیں کر سکتے اور غریب ملکوں کی عیاشی دیکھیں کہ ساٹھ ساٹھ ستر ستر فیصد خرچ کر رہے ہیں اور اس کے باوجود یہ کافی نہیں سمجھا جاتا۔چنانچہ فوجی امداد مانگی جاتی ہے۔اقتصادی امداد نے ان کو بھکاری بنادیا اور بھکاری بننے کے بعد ان کی اقتصادی حالت سدھر سکتی ہی نہیں۔ہر ملک کا یہی حال ہے کیونکہ جس شخص کو جھوٹے معیار زندگی کے ساتھ چمٹ جانے کی عادت پڑ گئی ہو، جس شخص کو اپنے جھوٹے معیار زندگی کی بھیک مانگ کر قائم رکھنے کی عادت پڑ چکی ہو، وہ نفسیاتی لحاظ سے اس قابل ہو ہی نہیں سکتا کہ اقتصادی طور پر اس میں خوداعتمادی پیدا ہو اور وہ خود کوشش کر کے اپنے حالات کو بہتر کرے۔بالکل یہی حال قوموں کا ہوا کرتا ہے۔آپ نے کبھی مانگنے والے انسانوں کو خوشحال نہیں دیکھا ہو گا۔مانگنے والے انسان مانگتے ہیں ، کھاتے ہیں پھر بھی برے حال میں رہتے ہیں ہمیشہ ترستے ہی ان کی زندگیاں گزرتی ہیں اور وہ لوگ جو قناعت کرتے ہیں وہ اس کے مقابل پر بعض دفعہ نہایت غریبانہ حالت سے ترقی کرتے کرتے بڑے مالدار بن جاتے ہیں۔پس تیسری دنیا کی قومیں بدقسمتی سے ایک اور لعنت کا شکار ہیں اور وہ ہے ، قناعت کا فقدان