خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 179 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 179

خطبات طاہر جلد ۱۰ 179 خطبہ جمعہ یکم مارچ ۱۹۹۱ء ہے اور تلوار کے زور سے نظریات کو تبدیل کر دینے کا نام اسلامی جہاد ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ حق صرف مسلمانوں کو ہے۔عیسائیوں یا یہودیا ہندوؤں یا بدھوں کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی مسلمان کے نظریے کو بزور تبدیل کریں لیکن خدا نے یہ حق سارے کا سارا مسلمانوں کے سپرد کر رکھا ہے۔کیسا غیر عادلانہ، کیسا جاہلانہ تصور ہے لیکن اسے اسلام کے نام پر ساری دنیا میں پھیلا یا جارہا ہے۔پھر دوسرا جزو اس کا یہ ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم مسلمان ہو جائے تو کسی کا حق نہیں کہ اسے موت کی سزا دے۔تمام دنیا میں جہاں کوئی چاہے اپنے دین کو چھوڑ چھوڑ کر اسلام میں داخل ہوتا رہے دنیا کے کسی مذہب کے ماننے والوں کو حق نہیں کہ اسے موت کی سزا دیں لیکن اگر کوئی مسلمان دوسرا مذہب اختیار کر لے تو دنیا کے ہر مسلمان کا حق ہے کہ اس کی گردن اڑا دے۔یہ اسلام کا دوسرا منصفانہ اصول ہے جو اسلام کے علمبر دار خدا اور قرآن کے نام پر دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔تیسرا اصول یہ ہے کہ مسلمان حکومتوں کا فرض ہے کہ شریعت اسلامیہ کو زبردستی ان شہریوں پر بھی نافذ کریں جو اسلام پر ایمان نہیں لاتے لیکن دوسرے مذاہب کو یہ حق نہیں کہ وہ اپنی اپنی شریعت مسلمانوں پر نافذ کریں۔چنانچہ اس نظریہ عدل کی رو سے یہود کو بھی یہ حق نہیں کہ مسلمانوں سے طالمود میں بیان کردہ سلوک کریں اور ہنود کو بھی یہ حق نہیں کہ مسلمانوں سے منوسمرتی میں بیان کردہ سلوک کریں۔پس یہ تیسرا تصور عدل ہے۔یہ صرف تین مثالیں ہیں لیکن حقیقت میں آپ مزید جائزہ لیں تو بہت سے اور امور بھی ایسے ہیں جن میں آج کے مولوی کا پیش کردہ تصور اسلام قرآن کریم کے واضح اور بین اصول عدل سے متصادم ہے اور اسے رد کرنے کے مترادف ہے۔آج دنیا میں اسلام کے خلاف سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ہتھیار یہی وہ تین اصول ہیں جن کی فیکٹریاں مسلمان ملکوں میں لگائی گئی ہیں۔یہود سب سے زیادہ کامیابی کے ساتھ ان تین اسلامی اصولوں کو یعنی نعوذ بالله من ذالک اسلامی اصولوں کو مولویوں کے بنائے ہوئے اسلامی اصولوں کو کہنا چاہئے۔مغربی دنیا میں اور دوسری دنیا میں پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان لوگوں سے تمہیں کس طرح امن نصیب ہوسکتا ہے ان لوگوں سے ہمیں کس طرح امن نصیب ہو سکتا ہے جن کا انصاف کا تصور اور عدل کا تصور ہی پاگلوں والا تصور ہے جس کے اندر کوئی عقل کا شائبہ بھی دکھائی نہیں دیتا۔مسلمانوں کے لئے اور حقوق غیروں کے لئے اور حقوق ، سارے حقوق دنیا میں راج کرنے کے مسلمانوں کو اور سب غیر