خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 180
خطبات طاہر جلد ۱۰ 180 خطبہ جمعہ یکم مارچ ۱۹۹۱ء ہر دوسرے حق سے محروم۔اگر نعوذ بالله من ذالک یہ قرآنی اصول ہے تولا ز ما ساری دنیا اس اصول سے متنفر ہوگی اور مسلمانوں کو امن عالم کے لئے شدید خطرہ محسوس کرے گی۔پس صرف یہی کافی نہیں کہ غیروں سے ان زیادتیوں کے شکوے کئے جائیں جو مسلمان پر کی جاتی ہیں۔اپنے پر بھی نظر ڈالنی چاہئے اور دیکھنا چاہئے کہ یہ زیا دتیاں کیوں ہورہی ہیں اور شاطر دشمن کس طرح مسلمانوں کے خلاف خود مسلمانوں کے بنائے ہوئے ہتھیاروں کو استعمال کر رہا ہے پس امر واقعہ یہی ہے کہ اسلامی ممالک میں اسلام کی طرف منسوب ہونے والے نہایت مہلک ہتھیاروں کی فیکٹریاں لگی ہوئی ہیں اور ملاں ان کا رخانوں کو چلا رہے ہیں اور بھاری تعداد میں دشمن ممالک میں یہ دساور کو بھیجے جاتے ہیں اور ان کی برآمد ہوتی ہے اور پھر یہی ہتھیار عالم اسلام کے خلاف استعمال کئے جاتے ہیں۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ مسلمان سیاستدانوں کا بھی اس میں بہت بڑا قصور ہے۔انہوں نے خود اسلام کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ملاں کے سپرد کر بیٹھے اور یقین کرلیا کہ ملاں اسلام کی جو بھی تصویر پیش کر رہا ہے وہی درست ہے لیکن ان کے ضمیر نے اور ان کی روشن خیالی نے اس تصویر کو رد کیا ہے لیکن یہ جرات نہیں رکھتے کہ ان نظریات کو غیر اسلامی سمجھتے ہوئے بھی ان کی مخالفت کر سکیں۔پس اس نفسیاتی الجھن نے تمام اسلامی ریاست کو مریض بنا رکھا ہے دو گلا اور منافق بنا دیا ہے۔اپنے عوام ان ملانوں کے سپر د کر دیئے ہیں جو ازمنہ وسطی کی سوچ رکھتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کے روشن زمانے سے روشنی حاصل نہیں کرتے اس لئے جب انہوں نے اپنے عوام کو ہی ان کے ہاتھ میں دے دیا تو ان کی طاقت سے ڈر کر وہ کھلم کھلا یہ کہنے کی جرات نہیں رکھتے کہ یہ اصول غلط ہیں کیونکہ وہ خود بھی ان کو نعوذ باللہ اسلامی اصول سمجھ رہے ہیں۔پس اب وقت ہے کہ حکومتیں ہوش کریں اور عالم اسلام جو دو نیم ہوا پڑا ہے، سیاست کی دنیا الگ ہے اور مذہبی سوچ کی دنیا الگ ہے اور ان دونوں کے درمیان تصادم ہے۔یہ دوسرا خطرناک پہلو ہے جس کے نتیجے میں عالم اسلام کو خود اپنی طرف سے بھی خطرہ ہے اور اس خطرے کی بیخ کنی ضروری ہے بلکہ فوری ہے ورنہ ایک نئے جہان کا نظام نو بنانے میں مسلمان کوئی کردار ادا نہیں کرسکیں گے۔پس ضروری ہے کہ مسلمان حکومتیں واشگاف الفاظ میں یہ اعلان کریں کہ قرآن کے نظام عدل سے ٹکرانے والا کوئی نظریہ اسلامی نہیں کہلا سکتا اس سے بڑی اور کسی دلیل کی