خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 178 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 178

خطبات طاہر جلد ۱۰ 178 خطبہ جمعہ یکم مارچ ۱۹۹۱ء جبر و استبداد کی طاقتیں خواہ مغربی ہوں یا مشرقی ، ناگا ساکی اور ہیروشیما پر ایٹم بم گرانے والا امریکہ ہو یا انڈونیشیا میں بربریت کی نئی حیرت انگیز مثالیں اور نہایت دردناک مثالیں قائم کرنے والا جاپان ہو، میں یقین دلاتا ہوں کہ اگر ان کی نیتیں وہی رہیں جو ہمیشہ سے سیاستدانوں کی نیتیں چلی آئی ہیں اور اخلاق کی بجائے خود غرضی پر ان کی بنا ہوئی تو کبھی دنیا کو امن عطا نہیں کر سکتے۔دنیا کی طاقتور قوموں کے لئے ضروری ہے کہ پہلے اپنی نیتوں کے جنگلوں میں چھپے ہوئے بھیڑیوں کو ہلاک کریں۔اگر ایسا نہیں کریں گے تو صدام کی ایلیٹ فورس کو تباہ کرنے سے دنیا میں امن کی ضمانت نہیں ہوسکتی ، تمام عراق کے ٹکڑے ٹکڑے بھی کر دیں تب بھی دنیا میں امن کی کوئی ضمانت نہیں ہو سکتی۔انسان کو ہلاک کرنے کے لئے اس کی نیتوں میں بھیڑیے چھپے ہوئے ہیں۔جب تک نیتوں میں پوشیدہ بھیڑیوں کو انسان ہلاک نہیں کرتا اور عدل پر قائم ہونے کے عہد نہیں کرتا اس وقت تک دنیا کو ہرگز امن کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔لیکن یہاں ایک بہت ہی اہم سوال اٹھتا ہے کہ جب تک قرآن کا پیش کردہ نظام عدل اسلامی دنیا خود قبول نہ کرے اور اپنے اپنے ملکوں میں اسلام کا نظام عدل جاری کر کے نہ دکھائے اور اپنے نظریات کو عادلانہ نہ بنائے اس وقت تک وہ دنیا کو کیسے اسلام کے عدل کی طرف بلاسکتی ہے۔یہ ناممکن ہے جب تک عالم اسلام خود عدل پر قائم نہیں ہوتا یعنی قرآن کے تصور عدل پر قائم نہیں ہوتا، نہ عالم اسلام دنیا کو عدل عطا کر سکتا ہے نہ دنیا سے عدل کی توقع رکھ سکتا ہے۔اس ضمن میں ہم دیکھتے ہیں کہ عالم اسلام میں نہایت ہی خوفناک ایسی باتیں رائج ہیں جو اسلام کے ساتھ بے وفائی کا حکم رکھتی ہیں اور بجائے اس کے کہ اسلام کی عادلانہ تعلیم کو سمجھیں اور قبول کریں، اسلام کو دنیا کے سامنے ایک ایسے مذہب کے طور پر پیش کیا جارہا ہے جس کا عدل کے ساتھ کوئی دُور کا بھی تعلق نہیں۔اس میں سب سے بڑا قصور ملاں اور سیاستدان کا ہے ان دونوں کے گٹھ جوڑ کے نتیجے میں اسلام کے نظام عدل کو تباہ کیا جارہا ہے تین ایسے نظریات اسلام کی طرف منسوب کر کے پیش کئے جارہے ہیں کہ جن کے نتیجے میں بیرونی دنیا میں اسلام کی تصویر ظالمانہ طور پر مسخ ہو کر پیش ہورہی ہے اور ہر اسلامی ملک سے بھی امن اٹھتا چلا جا رہا ہے۔پہلا نظریہ یہ پیش کیا جاتا ہے کہ تلوار کا استعمال نظریات کی تشہیر میں نہ صرف جائز بلکہ ضروری