خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 163
خطبات طاہر جلد ۱۰ 163 خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء اور انہوں نے سرنہیں جھکایا۔امریکن تکبر کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور اس ذلت اور رسوائی کے ساتھ امریکہ کو پھر شکست تسلیم کرنی پڑی اور شکست تسلیم کرنے کا طریق بھی ایسا دلچسپ ہے کہ فرانس میں جب Peace کا نفرنس ہو رہی تھی تو شمالی ویٹنام نے عارضی طور پر بھی جنگ بندی سے انکار کر دیا۔انہوں نے یہ اعلان کیا کہ ہاں ہم صلح کی باتیں بھی کریں گے اور لڑائی بھی جاری رکھیں گے چنانچہ یہ جو سبق آج عراق کو دے رہے ہیں یہ انہوں نے ویٹنام سے سیکھا تھا کہ صلح کی باتیں بھی کریں گے اور لڑائی بھی جاری رکھیں گے۔پس وہاں جو دنیا کی سب سے بڑی طاقت کا تکبر ٹوٹا ہے وہ اتنی ہولناک نفسیاتی شکست ہے کہ کسی طرح وہ اس کا بدلہ چاہتے ہیں اور اپنی قوم کی خود اعتمادی کو بحال کرنا چاہتے ہیں۔لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ ٹوٹی ہوئی کمریں جڑا نہیں کرتیں اور باوجود اس کے کہ عراق پر بمباری کی رفتار کے لحاظ سے ویٹنام کے مقابل پر 4 گنا زیادہ شدت کی جارہی ہے۔ابھی تک یہ دودنوں کی جنگ کہہ رہے تھے، چھٹا ہفتہ ہو گیا ہے اور ابھی تک عراق کی کمر نہیں توڑ سکے۔امر واقعہ یہ ہے کہ یہ دنیا بدل چکی ہے۔یہ زمانے وہ نہیں رہے۔اب انسان کی خودی کا تصور بلند ہورہا ہے۔اس کو ہوش آ رہی ہے۔آزادی کی لہریں چل رہی ہیں خدا کی تقدیر دنیا کے رجحانات تبدیل کر رہی ہے۔اب جھوٹے خداؤں کے دن نہیں رہے ان کی صفیں لپیٹنے کے دن آچکے ہیں اور ان کو یہ دکھائی نہیں دے رہا۔ظلم پر ظلم کرتے چلے جارہے ہیں اور یہ نہیں سوچ رہے کہ ان کی کیا تصویر دنیا میں بن رہی ہے اور آئندہ تاریخ میں کیا بنے گی۔آج یہ صدام حسین کو ہٹلر اور ظالم اور سفاک کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔اگر ساری باتیں بھی تسلیم کر لی جائیں تو ویٹنام میں انہوں نے جو مظالم کئے ہیں وہ سارے مظالم صدام حسین کے مظالم کے مقابل پر اس طرح ہیں جس طرح رائی کے مقابل پر ایک پہاڑ ہو۔صدام حسین کے جتنے فرضی مظالم جو بیان کئے جاتے ہیں اگر فرض کریں سارے بیچ ہوں تو ان مظالم کے مقابل پر اُن کو کوئی بھی حیثیت نہیں جو امریکہ نے ساڑھے آٹھ سال تک ویٹنام پر کئے ہیں اور کوئی حق نہیں تھا۔تمہارا کام کیا ہے کسی اور ملک پر جا کر بمباریاں شروع کر دینا اور اس ملک کے ایک حصے کی لڑائی میں اس کا شریک بن کر دوسرے ملک کے انسانوں پر بربریت کی انتہا کر دینا۔وہ تفصیل اگر آپ پڑھیں تو آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔آپ کا سارا وجود کانپنے لگے۔اتنے