خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 164 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 164

خطبات طاہر جلد ۱۰ 164 خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء خوفناک مظالم ہیں لیکن اس سے بڑا ظلم یہ کہ آج تک یہ ویٹنا میز کی کردار کشی کرتے چلے جارہے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہوں نے جن شہروں پر دوبارہ قبضہ کیا تو وہاں ہماری تائید کرنے والوں کو انہوں نے اسی طرح ہلاک کیا ، اس طرح ظلم کئے۔وہاں سینکڑوں ہزاروں آدمیوں کی اکٹھی قبریں ہیں۔جنگ میں جو غداری کرتا ہے اور اتنی ظالمانہ جنگ اور یک طرفہ جنگ میں ، اس کے ساتھ یہی سلوک ہونا چاہئے دنیا کا کونسا قانون ہے جو غدار کی جان کی ضمانت دیتا ہے اور یہ خود تسلیم کرتے ہیں کہ ان لوگوں نے ان کی حمایت کی تھی۔پس ان مظالم کے نقشے کھینچتے ہیں اور وہ جو دوسرے مظالم ساڑھے آٹھ سال تک یک طرفہ کرتے چلے گئے ان کا کوئی ذکر نہیں کرتے۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ جو امریکہ کو خوفناک نفسیاتی بیماری لگ چکی ہے یہ آج دنیا کے امن کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے اور اس پر ایک اور بات کا خوفناک اضافہ ہوا ہے۔ایک ایسی جنگ کی مثال قائم کی گئی ہے جس کی کوئی نظیر ساری دنیا کی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔یعنی کرائے کی جنگوں کی باتیں تو آپ نے سنی ہوں گی مگر اتنی وسیع پیمانے پر ، اتنی خوفناک کرائے کی جنگ کبھی دنیا کی تاریخ میں نہیں لڑی گئی۔ویٹنام کی جنگ میں امریکہ کے کردار کا کم سے کم ایک اچھا پہلو یہ تھا کہ لوگوں کے سامنے کشکول لے کر نہیں گیا تھا کہ ہمیں اس جنگ کے پیسے دو ایک سو بیس بلین ساڑھے آٹھ سال تک ظلم برسانے کا خرچ امریکہ نے خود برداشت کیا ہے۔120 بلین بہت بڑی رقم ہے لیکن موجودہ جنگ ساری کی ساری مانگے کے پیسوں سے لڑی جارہی ہے۔اب ایسی جنگ کی مثال اگر اس دنیا میں قائم کر دی جائے کہ تم کسی سے پیسے لے کر لڑو۔دنیا کے امن کی پھر کیا ضمانت باقی رہے گی۔جس کا مطلب یہ ہے کہ غریب قوموں کا امن امیر قوموں کے ہاتھ میں تھما دیا جائے گا اور جب چاہیں جہاں چاہیں دنیا کی امیر قو میں کرائے کے ٹولے کر ، کرائے کے سپاہی لے کر غریب قوموں پر مظالم ڈھاتی رہیں۔یہ پیغام ہے جو دنیا کو دیا جارہا ہے اور مزید ایک اور ایسی حرص اس جنگ کے ساتھ شامل ہے کہ اس کے نتیجے جب رفتہ رفتہ ظاہر ہوں گے تو آپ حیران ہوں گے کہ کس طرح یورپ کی دوسری قوموں میں بھی اس سے تحریک پیدا ہوگی کہ اگر جنگ کا یہی مطلب ہے تو کیوں نہ ہم بھی ہاتھ رنگ لیں۔عراق اور کویت پر اس جنگ میں جو تمام تبا ہی وارد کی گئی ہے اس کے پیسے انہوں نے وصول کئے ہیں اور اس تباہی کے نتیجے میں نقصان پورا کرنے کے اس سے کئی گنا زیادہ پیسے ان سے وصول کریں