خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 162
خطبات طاہر جلد ۱۰ 162 خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء حملے کی کوشش بھی کی مگر جہاز ان کو Destroy کر کے ان کے حملے سے نکل کر باہر چلا گیا اور باہر ان کا ایک ساتھی Destroyer جن کا نام Turner Joy تھا، اس کو لے کر دوسرے یا تیسرے دن واپس آگیا ان کا خیال تھا کہ اب جب ہم دوبارہ حملہ کریں گے تو ہمیں بہانہ ہاتھ آجائے گا لیکن اتفاق ایسا ہوا کہ Tropic Strom آگیا اور Tropic Strom بھی جس طرح Desert Strom ہوتے ہیں بہت ہی خطرناک چیز ہے اس کے متعلق لکھتے ہیں کہ ان کی ساری الیکڑانک Equipments Hay'Wire ہو گئیں ، پاگل ہو گئیں ان کو پتہ ہی نہیں لگتا تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔چنانچہ وہ کہتے یہ ہیں کہ انہوں نے واقعہ یہ سمجھا کہ ان پر حملہ ہو گیا ہے۔اب جاہلوں والی بات ہے۔طوفان آرہا ہے۔دکھائی دے رہا ہے اور اس سے یہ کس طرح سمجھ لیا کہ حملہ ہو گیا ہے یعنی ویٹنام نے وہ طوفان چلایا تھا۔بہر حال بہانے جب تلاش کرنے ہوں تو اس طرح کے بے وقوفوں والے بہانے تلاش کئے جاتے ہیں کہ انہوں نے کہا حملہ ہو گیا ہے اور انہوں نے دھڑادھڑ ویٹنام کے علاقے پر بمباری شروع کر دی اور پھر اس بات پر قائم رہ گئے کہ چونکہ انہوں نے حملہ کیا تھا، اس کی جوابی کارروائی کی ہے۔اس پر بڑی شدت کے ساتھ ویٹنام پر حملہ کیا گیا۔ہوائی حملہ بھی کیا گیا اور ایک سال کے اندراندر یعنی وہ 1946 ء کا جو سال ہے وہ ختم ہونے سے پہلے پہلے دولاکھ امریکی سپاہی وینام کی سرزمین میں پہنچا دیئے گئے تھے اور 1946ء میں یہ تعداد بڑھ کر 5لاکھ 40 ہزار بن چکی تھی۔بمباری کا عالم یہ تھا کہ ساڑھے آٹھ سال تک مسلسل دن رات ویٹنام پر بمباری کی گئی ہے اور ویٹنام پر کل بمباری 25 لاکھ ٹن کی گئی ہے یعنی جنگ عظیم کے 6 سال میں تمام دنیا میں ، یورپ اور ایشیا اور افریقہ وغیرہ دوسری دنیا میں جتنی بمباری ہوئی ہے تقریباً اتنی ہی بمباری صرف ایک ویٹینام پر اس ساڑھے آٹھ سال میں کی گئی جو فلوریڈا ریاست کے بمشکل برابر ہے۔امریکہ کی ریاستوں میں سے ایک ریاست فلوریڈا ہے اور اپنی دنیاوی طاقت کے لحاظ سے فلوریڈا بہت پیچھے ہے۔نہ صنعت کی کوئی حالت ، نہ کوئی دوسری تجارتی طاقت اس کو حاصل ہے۔ایک غریب ملک ہے لیکن عظمت کردار دیکھیں کہ ساڑھے آٹھ سال تک سر بلند کر کے امریکہ سے ٹکر لی ہے اس عرصے میں جنوبی ویٹنام میں ان کے مرنے والے سپاہی اور شمالی ویٹنام میں مرنے والے سپاہی اور Civilians کی کل تعداد 25 لاکھ تھی۔گویا سارے اسرائیل کا یہودی اگر ہلاک ہو جائے تو اتنی تعداد بنتی ہے