خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 147 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 147

خطبات طاہر جلد ۱۰ 147 خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء Kubla نے وہ آواز سنی یا نہیں سنی لیکن David-ben Gurion نے یقیناً Zion Hill سے بلند ہوتی ہوئی یہ آواز سنی ہے کہ اسرائیل! آج کے بعد تمہارے قیام کا مقصد صرف ایک ہے اور صرف ایک ہے اور صرف ایک ہے کہ جنگیں کرتے چلے جاؤ اور تمام دنیا کو جنگ میں جھونکتے چلے جاؤ۔اس کے بغیر اسرائیل کا اور کوئی مفہوم نہیں ہے۔پس اس اسرائیل کی تائید میں امریکہ اور اس کے اتحادی اپنے آپ کو خواہ کسی دھوکے میں مبتلا رکھیں اس اسرائیل کی تائید کے بعد کسی امن کا تصور ممکن ہی نہیں ہے۔یہ اسرائیل کی سرشت میں داخل ہے ان کی تعریف میں داخل ہے کہ اب ساری دنیا کو ہمیشہ جنگوں میں جھونکنا ہے اور کیوں جھونکنا ہے؟ اس سلسلہ میں میں آخر پر اس راز سے پردہ اٹھاؤں گا اگر چہ یہ کوئی خاص بڑا راز بھی نہیں۔اسرائیل کی جنگی تیاریوں کا جہاں تک تعلق ہے،اب تک دنیا کو یہ بتانے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ عراق دنیا کے لئے اتنا بڑا خطرہ ہے کہ وہ ہٹلر ہے، وہ Natsiism کی ایک نئی نمود ہے نئی شکل میں Natsiism ظاہر ہوا ہے حالانکہ عراق کا یہ حال ہے کہ خود ایک مغربی مبصر نے لکھا کہ اس کو تم ہٹلر کہہ رہے ہو جو آٹھ سال تک ایران جیسے ملک پر قبضہ نہیں کر سکا اور ہٹلر نے آنا فانا سارے یورپ میں تہلکہ مچادیا تھا۔اس سے تمہاری روحیں کا نپتی تھیں, وہ برلن سے اٹھا ہے اور لینن گراڈ کے دورازے کھٹکھٹا رہا تھا اور ادھر اس کے راکٹ تمہارے لندن شہر پر برس رہے تھے اور تم کس منہ سے صدام کو ہٹلر کہہ رہے ہو جس کے اوپر تمہارے راکٹ برس رہے ہیں کیسا جاہلانہ تصور ہے۔ایک سکڈ میزائیل بھی نہیں بنا سکتا۔گن رہے ہیں کہ کتنی باقی رہ گئی ہیں اور جو پیوند اس پر لگایا تھا تا کہ اس کی Range بڑھ جائے وہ ایسا بے ہودہ سا بنا ہوا ہے بیچارہ جس طرح ہمارے لو ہارے تر خانے کام ہوتے ہیں کہ اس پر یہ گرے ہوئے پر مذاق اڑا رہے تھے کہ یہ تو حال ہے عراق کا ، ہم سے جنگ کی باتیں کرتا ہے Scud Missile میں صحیح طریق پر ایک تھوڑے سے ٹکڑے کا اضافہ بھی نہیں کر سکتا یہ ہٹلر ہے اور اسرائیل کے ایک جرنیل نے یہ دعوی کیا بلکہ یہ کہتا ہے کئی جرنیل یہ دعوے کر چکے ہیں۔"Israel Generals have often boasted that they could take on all the arab armies at the same time and still destroy them, and the chief of staff has even claimed that