خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 146 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 146

خطبات طاہر جلد ۱۰ 146 خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء ناصر اور صدام پیدا کئے جب تک ان کا کھوج نہیں لگائیں گے اور ان کی بیخ کنی کی کوشش نہیں کریں گے اس علاقے کو امن نصیب نہیں ہوسکتا۔جہاں تک میں نے جائزہ لیا ہے اور حقائق اس بات کے گواہ ہیں ، دراصل اسرائیل کا قیام ہی تمام نفرتوں کا آغاز ہے، تمام نفرتوں کی جڑ ہے اور اسرائیل کے قیام کے تصور میں جنگیں شامل ہیں اور یہ بات جو میں کہہ رہا ہوں یہ اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا بلکہ David Ben Gurion جو اسرائیل کے بانی مبانی ہیں، ان کا یہ دعوی ہے میں اس کا اقتباس پڑھ کر سناتا ہوں۔Making of Israel میں صفحہ 55 پر Games Cameron لکھتے ہیں:۔"For Ben-Gurion the word, state,had now no meaning other than an instrument of war" اسرائیل کے حصول کے بعد Ben-Gurion کے تصور میں اب ریاست کے کوئی اور معنی نہیں رہے سوائے جنگ کے I can think of no other meaning now,he said یعنی Ben-Gorion نے کہا "I feel that the wisdom of isreal now is that to waee war,that_and_nothing else,that and only that" میں یقین رکھتا ہوں کہ اب اسرائیل کی حکمت اور اس کی عقل کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ جنگیں کرے اور اس کے سوا اور کوئی خلاصہ نہیں جنگ اور جنگ اور جنگ۔اس عبارت کو پڑھ کر مجھے Colerigde کی دوسطریں یاد آ گئیں جو اس نے اپنی مشہور نظم Kubla Khan میں Kubla Khan کے متعلق لکھیں - Kubla Khan کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتا ہے۔And, mid this tumult kubla heard from far ancestral voices propngsuing war! اس غلغلے میں ، اس شور اور ہنگامے میں Kubla نے دور سے آتی ہوئی اپنے آباؤ اجداد کی آواز سنی جو جنگ کی پیشگوئی کر رہی تھی۔