خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 148
خطبات طاہر جلد ۱۰ 148 خطبہ جمعہ ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء he could defeat the armed forces of the Soviet Union۔" (Dispossessed, the ordeal of the palestians, Page:224 by david gilmour) David Gilmour اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ اسرائیلی جرنیل بارہا یہ دعوے کر چکے ہیں کہ اگر تمام عرب کی متحدہ قوت سے بھی ہم ٹکرائیں اور بیک وقت ٹکرا ئیں تو ہم ان تمام کو پارہ پارہ کر سکتے ہیں اور عرب متحدہ قوت کی کیا حیثیت ہے۔اگر سوویت یونین بھی ہم سے ٹکر لے تو یہ طاقت ہے کہ ہم سوویت یونین کو شکست دے دیں۔پس ایک خیالی فرضی ہٹلر کو Destroy کرنے کے لئے تباہ کرنے کے لئے ایک حقیقی ہٹلر کو یہ پال رہے ہیں اور کیسے اندھے ہیں، کیسے بصیرت سے عاری لوگ ہیں کہ ان کو یہ پتہ نہیں کہ ہٹلر کا یہ نام صدام کو اور فلسطین کو خود اسرائیلیوں نے دیا ہوا ہے۔ہٹلر کے نام پر یہ ہٹلر پال رہے ہیں اور ابھی آئندہ اگر یہ سمجھے نہیں تو ان کی آنے والی تاریخ بتائے گی کہ اسرائیل کے کیا ارادے ہیں اور ان کے ساتھ خود اسرائیل کیا سلوک کرنے والا ہے۔اس پس منظر میں جب مسلمان یہ دیکھتے ہیں کہ اسرائیل ظلم پر ظلم کرتا چلا جارہا ہے اور اس کی حمایت پر حمایت ہوتی چلی جارہی ہے تو وہ حیران رہ جاتے ہیں ان کو سمجھ نہیں آتی کہ ہم سے ہو کیا رہا ہے؟ اسرائیل کی طرف بار بار مسلمانوں کے Terrorist کے ذکر ہوئے ہیں اور ساری مغربی دنیا میں آپ کی آنکھیں یہ پڑھتے پڑھتے پک چکی ہوں گی کہ مسلمان Terrorist اور مسلمان Terrorist اور مسلمان Terrorist اور مسلمان Terrorist اور فلسطینی Terrorist اور فلاں Terrorist اسلام اور Terrorist کو یک جان ، ایک قالب بنا کر دکھایا گیا ہے۔ایک ہی جان اور ایک ہی وجود کے دو نام ہیں لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ اسرائیل Terrorist کا بانی مبانی ہے اس سلسلے میں گزشتہ خطبے میں میں نے شاید چند مثالیں پیش کی تھیں۔اب میں بہت مختصراً آپ کو بتا تا ہوں کہ اسرائیل کی طرف سے Terrorist کے جو خوفناک واقعات ہوچکے ہیں۔ان پر آج تک عربوں کی تباہ شدہ بستیاں دیر یاسین، یافہ طیبہ ، مغربی بیروت ، صبرا اور شانتیلا کے کھنڈرات گواہ ہیں۔اتنے ہولناک مظالم ان بستیوں پر کئے گئے کہ مردوں ،عورتوں ، بوڑھوں ، بچوں کو دن دھاڑے آنکھوں میں