خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 104
خطبات طاہر جلد ۱۰ 104 خطبہ جمعہ ۸ فروری ۱۹۹۱ء عائد کیا جاتا ہے اور ارد گرد کی مسلمان حکومتوں پر عائد کیا جاتا ہے کہ وہ حملے کرتی تھیں اس لئے یہود کو جوابی کارروائی کرنی پڑتی تھی اور مجبوراً اپنا علاقہ وسیع تر کرنا پڑا لیکن اس کے بعد 1956ء میں جو یہود نے جارحانہ جنگ لڑی ہے یا اسرائیل نے جارحانہ جنگ لڑی ہے اس کا کسی قسم کا کوئی جواز نہیں۔وہ خالصہ توسیع پسندی کی جنگ تھی اور انتہائی ہولناک جنگ تھی چند دن کے اندراندر انہوں نے مصر اور شام اور اردن کی طاقتوں کو کچل کے رکھ دیا اور اپنے علاقے کو اتنا وسیع کرلیا کہ جو علاقہ ان کو مینڈیٹ نے عطا کیا تھا اس سے کئی گناہ زیادہ بڑھ چکا تھا۔خلاصہ میں آپ کے سامنے یہودی علاقے کی توسیع کا معاملہ رکھتا ہوں اس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ کس حد تک یہود نے اپنے علاقے میں توسیع کی ہے اور کرتے چلے جارہے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔1937ء کی غالبا بات ہے کہ انگریزوں نے 18ء کے بالفور ریزولیوشن کو پیش نظر رکھتے ہوئے اعداد و شمار میں پہلی دفعہ یہ بات کی کہ یہود کی حکومت کو کتنا علاقہ دینا چاہئے۔چنانچہ اس فیصلے کی رو سے پانچ ہزار کلومیٹر کا علاقہ یہود کو دیا جانا چاہئے تھا 1947ء کے آخر میں جو فیصلہ یونائیٹڈ نیشنز نے کیا اس میں 5000 کی بجائے ہیں ہزار کلومیٹر کا رقبہ ان کو دیا گیا تھا۔کچھ رقبہ دوسال کے عرصہ میں بڑھ گیا جس کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں اور 1956 ء کی جنگ کے آخر پر یہود کے قبضے میں اٹھاسی ہزار کلو میٹر کا رقبہ ہو چکا تھا۔اس سے آپ اندازہ کریں کہ جو بات پانچ ہزار سے شروع ہوئی تھی کہاں تک پہنچی ہے۔آخری جنگ جو اس علاقے میں موجودہ جنگ سے پہلے لڑی گئی و ہ یوم کیبور کی جنگ کہلاتی ہے۔یوم کیبور کی جنگ کو یہ مسلمانوں کی طرف سے عرب ممالک کی طرف سے جارحانہ جنگ قرار دیتے ہیں۔حالانکہ یہ بات درست نہیں۔واقعہ یہ ہے کہ 1967ء کی جنگ شاید میں 57 کی کہہ چکا ہوں اگر کہا ہے تو غلط ہے سڑسٹھ (Sixty Seven) کی جنگ جو چھپن کی جنگ کے گیارہ سال بعد لڑی گئی تھی۔یہ یہود کی جارحانہ جنگ تھی جس کے نتیجے میں یہ سارا علاقہ ان کے قبضے میں آیا جس کا میں ذکر کر چکا ہوں۔اٹھاسی ہزار کلو میٹر سے زیادہ رقبہ۔اس کے بعد 1973ء میں يوم كیبور کی جنگ ہوئی یوم کیبور یہود کا ایک مقدس دن ہے۔اس دن اچانک اسرائیل پر شام اور اردن کی طرف سے مشترکہ طور پر حملہ کیا گیا بیان کیا جاتا ہے کہ یہ جنگ خالصہ عربوں کی جارحانہ جنگ تھی جس میں یہود بالکل بے قصور تھے یہ بات درست نہیں۔وجہ یہ ہے کہ 1967ء کی جنگ کے