خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 105
خطبات طاہر جلد ۱۰ 105 خطبہ جمعہ ۸ فروری ۱۹۹۱ء بعد یونائیٹڈ نیشنز نے اور یونائیٹڈ نیشنز کی سیکیورٹی کونسل نے ایک ریزولیوشن پاس کیا جس کا نمبر ہے 242 اس ریزولیوشن کے نتیجے میں انہوں نے اسرائیل کی جارحانہ جنگ کی مذمت کرتے ہوئے تہ طور پر حکم دیا کہ اسرائیل اپنی فوجوں کو ان تمام علاقوں سے پیچھے ہٹالے جو اس جنگ کے نتیجے میں اس کے ہاتھ میں آئے ہیں اور ساتھ ہی یہ شوشہ بھی اس ریزولیوشن میں چھوڑ دیا گیا جس طرح British اور Western Diplomacy کا طریق ہے کہ جب اس فیصلے پر عملدآمد کا وقت ہو تو کچھ اور بحثیں ساتھ چھڑ جائیں اس میں شوشہ بھی ساتھ رکھا گیا کہ اس علاقے کی سب حکومتوں کا حق ہے کہ ان کے امن کا تحفظ ہو اور ان کی ایسی شکل ہو جغرافیائی طور پر کہ گویا ان کے امن کو خطرہ نہ پیش آئے۔مطلب یہ تھا کہ اس بہانے جب بھی اس فیصلے پر عملدرآمد کا وقت آئے گا تو یہ کہا جائے گا کہ یہود ی بقا کا تقاضا ہے یا اسرائیل کی بقا کا تقاضا ہے کہ علاقے میں اتنار دو بدل کرو اور ترمیم کرونگر اس کے کسی پہلو پر بھی عملدرآمد نہیں ہوا۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یونائیٹڈ نیشنز کے فیصلے کو نافذ کرنے کے لئے امریکہ اور اس کے تمام Alliese کو یہ حق حاصل ہے کہ عراق پر حملہ کر دیں تو جن کا اپنا علاقہ تھا ( یہ کویت تو ان کا اپنا علاقہ نہیں تھا جس کی خاطر یہ حملہ کیا گیا ہے ) جن قوموں کا اپنا علاقہ تھا وہ سالہا سال تک صبر کرتی رہیں ، یونائیٹڈ نیشنز کے فیصلے پر کسی نے عملدرآمد نہیں کروایا۔ان کا حق تھا کہ اس علاقے کو لینے کی خاطر وہ فوجی کارروائی کریں۔پس اس کو جارحانہ کارروائی کہنا جارحیت ہے بڑا ظلم ہے یہ ایک مظلوم، کمزور قوم کی ایک کوشش تھی کہ یونائیٹڈ نیشنز (United Nations) کے فیصلے پر اگر کوئی اور عملدرآمد نہیں کرواتا تو ہم خود کوشش کر دیکھیں۔پس یہ ہے وہاں کی جنگوں کی تاریخ اور اس میں یہ سب قو میں اب تک جو رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں وہ آپ کے سامنے ہے۔موجودہ جنگ میں جو باتیں کھل کر سامنے آئی ہیں ان کی تفصیل میں جانے کا وقت نہیں مگر آپ کی یادداشت میں وہ تازہ ہوں گی۔خلاصہ ان سب باتوں کا یہ نکلتا ہے۔( مقاصد کے متعلق میں بعد میں بات کروں گا لیکن خلاصہ اس کا یہ ہے کہ ) اسرائیل کو اس تمام پس منظر کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ یہ تو میں یہ حق دیتی ہیں کہ وہ جب چاہے ، جس ملک کے خلاف چاہے جارحانہ کا رروائی کرے اور جارحانہ کاروائی کے نتیجے میں جو علاقے وہ ہتھیائے گا اس کے متعلق اگر یونائیٹڈ