خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 103
خطبات طاہر جلد ۱۰ 103 خطبہ جمعہ ۸ فروری ۱۹۹۱ء کتاب میں لکھا کہ Anthony Eden کے متعلق یہ تاثر پیدا ہوتا تھا کہ اس نے یہ جنگ ناصر کو اس جرم کی سزا دینے کے لئے شروع کی ہے کہ Egypt کے ایک کرنیل کی مجال کیا ہے کہ دولت عظمیٰ برطانیہ کے وزیر اعظم کو Defy کرے اور اس کے مقابل پر اس طرح سربلندی کا مظاہرہ کرے۔بالکل یہی تجزیہ آج بش کے متعلق بعض مبصرین کی طرف سے پیش کیا جارہا ہے۔تو عملاً یہ ایک قسم کا 1956ء کی جنگ کا اعادہ ہے۔تیل کے مفادات اب ہیں اس وقت سویز کے مفادات تھے اور یہودی شرکت کی بجائے اب امریکن شرکت ہے۔پس اس جنگ میں دراصل وہی تین طاقتیں نمایاں ہیں جو پہلے تھیں۔انگلستان، فرانس اور یہود لیکن فرق صرف یہ پڑا ہے کہ یہود کی نمائندگی امریکہ نے کی ہے اور وہ پس منظر میں رہا ہے اسے پس منظر میں رکھا گیا ہے۔اب ایک عجیب بات یہ ہے کہ جب مینڈیٹ اختتام کو پہنچا۔یہ مینڈیٹ والا حصہ غالبا میں بیان کر چکا ہوں اس لئے اس کو اس حصے کے ساتھ ملا کر سمجھنے کی کوشش کریں۔مینڈیٹ جب 48ء کو اختتام کو پہنچا تو انگریزوں نے جس طرح وہاں سے انخلاء کیا اس کی کوئی مثال اور دکھائی نہیں دیتی۔جب انہوں نے ہندوستان کو چھوڑا ہے تو اس وقت باقاعدہ اس بات کی تسلی کر لی گئی تھی کہ با قاعدہ Demarkation Line ہو۔وہ خطے جو دو ملکوں میں تبدیل ہونے والے ہیں ان کے درمیان واضح تقسیم ہو با قاعدہ حکومتیں قائم ہوں لیکن انگلستان نے اپنے چھوڑنے کے آخری دن تک ایسی کوئی کارروائی نہ خود کی ، نہ یونائیٹڈ نیشنز کو کرنے دی اور ساڑھے گیارہ بجے ان کے جہاز سب کچھ پیک کر کے فلسطین سے رخصت ہونے کے لئے روانہ ہوئے اور مینڈیٹ کے عطا کردہ اختیارات کے نتیجے میں برٹش تسلط کی جو حدود تھیں وہ سمندر میں جہاں تھیں عین بارہ بجے وہاں پہنچ کر انہوں نے رخصت کا بگل بجایا اور اس ملک کو اس طرح چھوڑ کر چلے گئے۔یہ بھی ایک بہت ہی ظالمانہ کارروائی تھی۔جس کا سب سے زیادہ نقصان فلسطینیوں کو پہنچا۔بہر حال مفادات کی یہ دو جنگیں ہیں جو مفادات کے نام پر لڑی گئیں اور آج کی تیسری جنگ بھی مفادات کی جنگ ہے جس میں یہود بھی ایک کردار کے طور پر کھیل میں شامل ہیں اگر چہ یہود کو پس منظر میں رکھا گیا ہے اور امریکہ نے یہود کی نمائندگی لے لی ہے۔دوسری قسم کی جنگیں مشرق وسطی میں یہود کی توسیع پسندی کی جنگیں کہلا سکتی ہیں۔1948ء 1949ء میں جو تو سیع پسندی کی لڑائیاں ہوئیں اس میں سارا الزام فلسطینیوں پر