خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 1000
خطبات طاہر جلد ۱۰ 1000 خطبہ جمعہ ۲۷ / دسمبر ۱۹۹۱ء میں اگر وہاں نہیں تو قرب و جوار میں ضرور ایسے معلم مہیا ہونے چاہئیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ علمی میدان میں بھی ان کو شکست دے سکیں۔ہندوستان میں ضروریات اس تیزی سے بڑھ رہی ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستان کی جماعتوں سے شاید اتنے احباب نہ مل سکیں۔اس ضرورت کے پیش نظر میں نے قادیان کو ہدایت کی تھی کہ وہ ہندوستان کی حکومت سے درخواست کریں کہ جس طرح دوسرے ممالک میں جماعت احمدیہ کو پنے مبلغین بھجوانے کی اجازت ہوتی ہے اس طرح ہندوستان بھی ہمیں باہر سے مبلغین بھجوانے کی اجازت دے۔اس سلسلہ میں گفت و شنید ا بھی کسی آخری مرحلے پر نہیں پہنچی لیکن اگر ہندوستان کی حکومت وسیع حوصلہ دکھائے اور جیسا کہ دنیا کے تمام ممالک خدمت دین کرنے کیلئے آنے والوں کی درخواستوں پر ہمدردی سے غور کرتے ہیں اور انہیں اجازت دیتے ہیں جیسے ہندوستان میں کثرت سے یورپ اور امریکہ سے عیسائی مبلغ اور مناد پہنچتے رہے اور آج بھی شاید ان کو اجازت دی جاتی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ مسلمان مبلغین کو جو خالصہ اللہ کی خاطر قربانی کرتے ہوئے امن کو پھیلانے کے لئے ، خدا کی محبت کو فروغ دینے کیلئے سچائی کا پیغام لے کر یہاں پہنچیں ان کی راہ روک دی جائے۔بہر حال اگر حکومت ہندوستان نے ہمدردانہ غور کرتے ہوئے جماعت کو اجازت دی تو میں ہندوستان کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ایک عالمی وقف کی تحریک کروں گا تا کہ دوسرے ملکوں سے بھی لوگ یہاں پہنچیں اور آپ کے وقت کے تقاضوں پر لبیک کہیں۔اگر یہ اجازت نہ مل سکی تو پھر آپ کو لازماً اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی کوشش کرنا ہوگی۔اس وقت جو میدان ہمارے سامنے ہیں ان میں بعض نئے ممالک بھی ہیں جن کا بظاہر تحریک جدید سے تعلق ہے لیکن کام کی نوعیت وقف جدید والی ہی ہے۔مثلاً سکم ہے ، بھوٹان ہے، نیپال ہے وہاں جہاں جہاں بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ کے مبلغین پہنچے ہیں انہوں نے زمین کو پیسی دیکھا جو پیاسی بھی تھی اور سیراب ہونے کی خواہش بھی رکھتی تھی۔ورنہ انسانی تجربہ میں یہ بات آئی ہے کہ جب تمثیلی طور پر انسان کا ذکر زمینوں کی صورت میں کیا جاتا ہے تو ضروری نہیں کہ پیاسی زمینیں پانی کی طلب بھی رکھتی ہوں۔پانی آئے تو اسے رد بھی کر دیتی ہیں لیکن بھوٹان ، سکم اور نیپال میں اللہ تعالیٰ کے فضل کیسا تھ طبعی فطری رجحانات پائے جاتے ہیں اور صرف ایک مذہب