خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 1001 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 1001

خطبات طاہر جلد ۱۰ 1001 خطبہ جمعہ ۲۷ دسمبر ۱۹۹۱ء کی طرف سے پیاس کا اظہار نہیں بلکہ وہاں جتنے مذاہب پائے جاتے ہیں ، ان سب میں ہی ایک طلب ہے اور ایک تلاش ہے چنانچہ اب تک ہمارے معمولی تعلیم یافتہ معلمین نے جتنا بھی کام کیا ہے خدا کے فضل سے اس کے توقع سے بہت بہتر نتائج ظاہر ہوئے ہیں۔اس لئے ہمیں پھر لازماً ان ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے آپ سے مزید واقفین طلب کرنے ہوں گے۔جہاں تک اعلیٰ تعلیم یافتہ واقفین کا تعلق ہے خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اب قادیان میں جگہ کی اتنی سہولت مہیا ہو چکی ہے اور اس جلسہ کے اثر سے بعض دوسری جماعتوں نے بھی مجھ سے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ ان کے خرچ پر ان کی طرف سے خصوصیت کے ساتھ ان کے علاقوں سے آنے والوں کے لئے بھی یہاں مہمان خانے تعمیر کئے جائیں۔پس وہ جو دقت تھی کہ طلباء کو کہاں پڑھایا جائے ، کہاں جامعہ بنایا جائے ، یہ دقت تو عملاً دور ہو چکی ہے اور باقی مزید دور ہو جائے گی۔اساتذہ کا جہاں تک تعلق ہے، میں نے غیر ممالک سے جائزہ لیا ہے اور بہت مثبت جواب پایا ہے کہ عرب جو عربی زبان کی مہارت رکھتے ہوں ، ویسے تو ہر عرب کو عربی آتی ہے لیکن ہر مادری زبان بولنے والے کو اس زبان پر قدرت نہیں ہوا کرتی اس لئے مزید چھان بین کرنی پڑتی ہے کہ کون فصیح و بلیغ زبان جانتا ہے، پس ایسے عرب احمدیوں میں سے جو زبان پر خدا تعالیٰ کے فضل سے قدرت رکھتے ہیں۔جب میں نے یہ سوال کیا کہ کیا آپ اپنے آپ کو وقف کر کے قادیان کے جامعہ میں پڑھانے کے لئے تیار ہوں گے تو انہوں نے خوشی سے اثبات میں جواب دیا بلکہ بہت ہی پر خلوص جذبے کے ساتھ لبیک کہی۔اسی طرح ایسے انگریزی دان بھی میسر ہیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ قادیان میں آکر خدمت کے لئے تیار ہیں۔اسی طرح خدا تعالیٰ کے فضل سے اور زبانوں میں بھی زبان سکھانے والے اپنے آپ کو پیش کر رہے ہیں۔اس پہلو سے یہاں کے جامعہ کا معیار خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بہت بلند کیا جاسکتا ہے۔اہل زبان اپنی اپنی زبان یہاں کے طالب علموں کو سکھائیں اور قابل علماء جو یہاں میسر نہ ہوں تو باہر سے منگوائے جائیں۔وہ اپنے اپنے مضمون کو اعلی پیمانہ پر ذہن نشین اور دلنشین کریں تو میں سمجھتا ہوں کہ یہاں خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جامعہ کا معیار بہت بلند ہوسکتا ہے اور جو روکیں اس وقت پاکستان میں ہمیں زچ کر رہی ہیں اور دل کو تنگ کرتی ہیں میں امید رکھتا ہوں کہ وہ روکیں یہاں