خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 999
خطبات طاہر جلد ۱۰ 999 خطبہ جمعہ ۲۷ / دسمبر ۱۹۹۱ء دیکھا جائے اور اگر واقعہ کوئی معمولی تعلیم والا شخص بھی اخلاص میں بڑھا ہوا ہو، تقومی کے لحاظ سے اس کا معیار اونچا ہو تو اس کو بھی وقف جدید میں شامل کر لیا جائے۔شروع میں یہی طریق تھا لیکن رفتہ رفتہ پھر معیار تعلیم کو بڑھایا جانے لگا اور وقف جدید میں داخلہ کیلئے کم سے کم میٹرک کو معیار قرار دیا گیا۔رفتہ رفتہ تعلیم میں اور بھی اضافے ہوئے۔اب پاکستان میں صورتحال یہ ہے کہ خدا کے فضل سے جتنے بھی معلمین ہیں ان کی ٹھوس تعلیم کا اگر مکمل نہیں تو کسی حد تک انتظام کیا جاتا ہے۔یہی صورت اس وقت ہندوستان میں رائج ہے لیکن آغاز میں وقف جدید کی جو روح تھی وہ وہی تھی جس کو میں نے ابھی بیان کیا ہے کہ اگر وقت کا تقاضا ہو تو تعلیم کو بے شک نظر انداز کر دو۔اخلاص اور تقویٰ کو پیش نظر رکھتے ہوئے واقفین کا انتخاب کرو۔اور جہاں ضرورت ہے اس ضرورت کو پورا کرو۔میں سمجھتا ہوں کہ آج ایسا ہی وقت ہے کہ ہمیں تعلیم کے لیے جھگڑوں کو نظر انداز کرنا ہوگا اور جب ہم یہ کہتے ہیں تو اس کے نتیجہ میں معا وقف جدید کے معلمین کی دو شکلیں سامنے آتی ہیں۔اول وہ جو محض تبلیغ حق کیلئے تبلیغ ہدایت کیلئے دنیا میں نکل کھڑے ہوں اور ان کی تعلیم خواہ کیسی بھی کیوں نہ ہو وہ تقویٰ کے زیور سے آراستہ ہوں، تقویٰ کا زاد راہ رکھتے ہوں تو ہم امید رکھتے ہیں کہ خدا کے فضل سے ان کی تبلیغ کو بہت پھل لگیں گے۔ایک دوسری نوع کے معلمین وہ ہوں گے جن کو لازماً کم سے کم بنیادی تعلیم دینی ہوگی۔کیونکہ ان کا زیادہ تر کام جماعتوں کی تربیت ہوگا۔پس دوستم کے معلمین کی ہمیں اس وقت ہندوستان میں شدید ضرورت ہے۔ایک وہ جو پیغام حق پہنچا ئیں خواہ کسی تعلیم کے ہوں۔کسی طبقہ زندگی سے تعلق رکھتے ہوں۔شرط صرف یہ ہے کہ وقف کی روح رکھتے ہوں، ایک ولولہ رکھتے ہوں، ایک جوش رکھتے ہوں کہ آج میدان خدمت نے ہمیں آواز دی ہے ہم ضرور لبیک کہیں گے۔اس جذبہ کے ساتھ وہ میدان میں نکل کھڑے ہوں اور ہر میدان کو خدا تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں سر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔دوسرے معلمین تربیت کی خاطر تیار ہونے ضروری ہیں۔اور انہیں کچھ علمی ہتھیار سے مرصع کرنا اس لئے ضروری ہے کہ بعض اوقات بعض علماء ان جگہوں پر جہاں جماعت احمد یہ ترقی کر رہی ہے اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ جا پہنچتے ہیں اور چیلنج دیتے ہیں کہ آؤ ہم سے علمی مقابلہ کرو، ایسی صورت