خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 81 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 81

خطبات طاہر جلد اول 81 خطبہ جمعہ ۳۰ جولائی ۱۹۸۲ء لپٹی ہوئی کوئی چیز ہے جو باطن میں ہے۔اس لیے اگر آپ نے ظاہری لباس پر بنا کی تو یہاں بھی آپ دھو کہ کھا جائیں گے۔ہزار دفعہ صوفی منش بزرگ نظر آنیوالے لوگ ، خدا کی نظر میں ہوسکتا ہے متقی نہ ہوں۔ہزار دفعہ ایسا بھی ہوگا کہ بظا ہر لباس بڑے فاخرانہ ہیں، دنیا داری کے نظر آتے ہیں اچھے اور قیمتی کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور فی الحقیقت ان کے اندر تقویٰ بھی موجود ہے۔ایسا ہی واقعہ حضرت سید عبدالقادر جیلانی کے ساتھ ہوا، اتنا بڑا مقام ہے آپ کی ولایت کا، اتنا عظیم الشان مقام کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کی تصدیق فرمائی اور بڑی محبت کا اظہار فرمایا۔ان کے متعلق آتا ہے کہ بڑا فاخرانہ لباس پہنا کرتے تھے یعنی دنیا جس کو فاخرانہ سمجھتی تھی۔بڑے قیمتی قیمتی جوڑے بہت اعلیٰ قسم کے بجے ہوئے جن پر ہاتھ کی سب زمینیں لگائی ہوئی ہوتی تھیں، وہ آپ استعمال کرتے تھے۔تو کسی مرید نے اپنی لاعلمی میں سوال کر دیا کہ حضرت ! آپ اتنے بزرگ ہو کے لباس کیوں اچھا پہنتے ہیں؟ انہوں نے کہا اچھا کیا تم نے پوچھ لیا، بدظنی نہیں کی۔خدا کی قسم! میں کوئی جوڑا نہیں پہنتا جب تک میرا خدا مجھے نہیں کہتا کہ عبد القادر ! اٹھ اور یہ کپڑے پہن۔میں ان کپڑوں سے بے نیاز ہوں میرے مولا کی ایک یہ بھی نظر ہے دنیا کو سبق دینے کی کہ: قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِيْنَةَ اللهِ الَّتِى اَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَتِ مِن الرِّزْقِ قُلْ هِيَ لِلَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَوْمَ القيمة (الاعراف: ۳۳) ایک یہ بھی سبق ہے۔کون ہے جس نے خدا کے بندوں پر زیتوں کو حرام کر دیا ؟ کہدے یہ تو مومنوں کے لیے پیدا کی گئی ہیں اس دنیا میں اور آخرت میں خاص ان کے لیے ہو جائیں گی۔دنیا میں اور بھی شریک ہیں۔پس جس طرح آنحضرت ﷺ کی ایک شان تھی کہ کبھی نہایت ہی پیارا قیمتی لباس آپ نے پہنا جب باہر سے تحفے آئے اور سادہ کپڑوں میں بھی چلے پھرے۔نہ اس پر شرمندگی کا احساس ہوا ، نہ اس پر فخر کا۔بالا ہو گئے، مستغنی ہو گئے۔پس تقویٰ کا ایک سبق ہمیں یہ ملا کہ انسان حسب ضرورت اچھا بھی پہن سکتا ہے ، برا بھی پہن سکتا ہے۔اس کے نتیجے میں ہم اگر یہ فیصلے کریں گے کہ فلاں متقی ہے اور فلاں غیر متقی تو بالکل