خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 82 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 82

خطبات طاہر جلد اول 82 88 خطبہ جمعہ ۳۰ جولائی ۱۹۸۲ء جھوٹ بول رہے ہوں گے۔احمقانہ بات ہوگی۔وہاں دخل دیں گے جہاں دخل دینے کا ہمارا کام کوئی نہیں۔ہمارا تعلق ہی کوئی نہیں ، ہمیں علم ہی کوئی نہیں۔تو لباسوں سے کیوں فیصلہ کرتے ہیں۔یہ وہی مضمون ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ کر توجہ دلائی کہ۔فَلَا تُزَكُوا أَنْفُسَكُمْ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى (انجم:۳۳) کہ ہم بار بار تقویٰ تو کہتے رہتے ہیں تم کہیں اس دھوکے میں مبتلا نہ ہو جانا کہ ہم فیصلہ تم سے لیں گے کہ کون متقی بندہ ہے اور کون غیر متقی ؟ یہ صرف اللہ ہی جانتا ہے۔هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقُی وہی بہتر جانتا ہے کہ تم میں سے متقی کون ہے؟ کیونکہ تقویٰ کا لباس آنکھ سے نظر نہیں آسکتا۔وہ ایک روحانی مسئلہ ہے جس کو صرف خدا کی آنکھ دیکھتی ہے۔پس اس پہلو سے ہمیں یہ بھی سبق ملا کہ لباس کو دیکھ کر ہم فیصلوں میں جلدی نہ کیا کریں۔محض لباس کو دیکھ کر اگر فیصلے کریں گے تو بسا اوقات ٹھو کر کھائیں گے اور بعض دفعہ ٹھو کر نہیں بھی کھائیں گے تو گناہ میں مبتلا ہو جائیں گے کیونکہ خدا نے ہمیں اس کام کے لیے مقرر نہیں فرمایا۔لباس اور تقویٰ کا ایک اور بھی تعلق ہے۔آنحضرت ﷺ کے اسوہ حسنہ سے ہی یہ سبق ملتا ہے کہ لباس انسان کا غلام بنا رہتا ہے اور بحیثیت غلام استعمال ہونا چاہئے ، انسان کا آقا نہیں بننا چاہئے۔اور یہ جو مسلک تھا آنحضور ﷺ کا، یہ بھی قرآن پر مبنی ہے۔قرآن کریم کہتا ہے۔وَسَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمَواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ (الجائيه: ۱۴) جو کچھ بھی زمین و آسمان میں ہے ہم نے تمہارا غلام بنایا ہے، تمہارا نوکر بنا کے رکھا ہوا ہے۔اگر تم اسکی عبادت کرنے لگ جاؤ یا اسکو اپنے اوپر حاوی کر لو تو یہ شرک ہی شرک ہے۔اپنے نوکر کی عبادت کرو گے؟ اپنے نوکر کے غلام بن جاؤ گے؟ تو کتنی حماقت ہے کتنی بیوقوفی ہے۔گھاٹے کا سودا ہے سارے کا سارا۔اس کی عبادت کرو، اس کے غلام بنو جس نے تمہارے لیے ان چیزوں کو بطور غلام ، بطور نوکر اور چاکر کے مسخر کیا ہوا ہے۔تو ہمیشہ جب کوئی انسان ایسا لباس پہنے جس کو دیکھ کر یوں محسوس ہو کہ وہ لباس کے ساتھ لٹکا ہوا ہے تو وہاں طبیعت میں ایک انقباض پیدا ہو جاتا ہے، طبیعت مکدر ہو جاتی ہے اور رحم آتا ہے۔کیونکہ آدمی یہ فیصلہ تو نہیں دے سکتا کہ یہ غیر متقی ہے کیونکہ اس کا یہ مقام ہی نہیں ہے۔ہوسکتا ہے کچھ اور بات ہو۔لیکن وہ شخص خود ضرور جان سکتا ہے جس کی یہ کیفیت ہے۔