خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 80
خطبات طاہر جلد اول 80 80 خطبہ جمعہ ۳۰ / جولائی ۱۹۸۲ء نہیں۔اس کا احسان ہے اگر مبتلا کر دیتا تو میں مارا بھی جاتا۔اسی طرح ایک دفعہ سندھ کے دورے میں ہوا۔حضور نے مجھے انگلستان سے آتے ہی وقف جدید میں لگا دیا۔جب سندھ کے دورے پر گیا تو دنیوی لحاظ سے ایک بڑی بیک ورڈ (Backward) جماعت میں بھی جانے کا اتفاق ہوا۔جس پر کچھ مولویت کا اثر بھی تھا۔ویسے تو میں عام لباس بھی پہننے لگ گیا تھا۔جو مرضی پہنتا تھا۔میں نے اس میں کبھی فرق نہیں کیا۔کیونکہ میرے نزدیک پتلون ہو، کوٹ ہو، کسی نے فرغل پہنا ہو، یا انڈونیشیا کی دھوتی پہنی ہو ، یہ ساری بے معنی باتیں ہیں۔با معنی بات صرف ایک ہے کہ ہر لباس کے ساتھ تقویٰ رہنا چاہئے چنانچہ وہاں میں نے جان بوجھ کر ، عمداً ان کو ذرا چھیڑنے کے لیے اپنا بہترین سوٹ نکالا اور ٹائی پہنی اور ان کے پاس پہنچا۔تو مجھے آج تک وہ Shock یاد ہے ، وہ دھکے جو ان کی نظروں کو لگے۔بعض تو استغفار کرتے ہوئے وہاں سے واپس چلے گئے کہ یہ واقعہ کیا ہو گیا ہے۔پھر رفتہ رفتہ مختلف رنگ میں سمجھایا گیا۔آہستہ آہستہ عادتیں پڑیں۔کچھ حو صلے وسیع ہوئے۔لیکن اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ نتیجہ یہ نہیں نکلتا کہ آپ مجھ پر رحم کریں کہ اوہو! میں بچپن میں تو اس طرح رہا کرتا تھا، اب مجھے کپڑوں کے تھنے دیں۔یہ نتیجہ بالکل نہیں نکلتا۔اگر کوئی یہ نتیجہ نکالتا ہے تو بڑی بیوقوفی کرتا ہے۔کوئی تحفہ نہیں آنا چاہیے۔زیادہ سے زیادہ یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جب آپ مسجدوں میں جائیں اور اپنے غریب بھائیوں کو دیکھیں، ظاہری لباس سے بھی عاری جوان کیلئے کافی نہ ہو تو ان کی ہمدردی کریں۔ان کو لباس پہنا ئیں کیونکہ ہر لباس کے بدلے آپ کو تقویٰ کا لباس مل رہا ہوگا ، آپ کو اللہ کی محبت کا لباس مل رہا ہو گا۔وہ لباس ایک ایسا لباس ہے جو مادی لباس سے مستغنی بھی ہے اور کبھی کبھی اس کے ساتھ تعلق بھی جوڑ لیا کرتا ہے۔خدا کی رضا کی خاطر اپنے غریب بھائیوں کی خدمت کریں۔عیدوں پر انکو اچھے کپڑے پہنا ئیں۔ان کیلئے سردیوں کے کپڑوں کا انتظام کریں۔یہ نتیجہ نکلتا ہے۔دوسرے یہ بھی نتیجہ نہیں نکلتا کہ جو شخص بظا ہر لباس سے مستغنی ہے وہی نیک ہے۔یہ بھی بالکل جھوٹ ہے۔کیونکہ تقویٰ کا لباس ظاہری نہیں ، وہ اندر گھسا ہوا ہے۔یہ عجیب و غریب بات ہے۔تقویٰ کا چونکہ روح سے تعلق ہے اس لیے لباس نام ہونے کے باوجود یہ نظر نہیں آتا۔یہ روح کے گرد