خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 223
خطبات طاہر جلد اول 223 خطبه جمعه ۲۲/اکتوبر ۱۹۸۲ء طرف مائل ہوا ، دوسری سے تیسری کی طرف۔آخر کار میرے ہاتھ سوائے اسکے کچھ بھی نہیں آیا کہ جو کچھ میں نے پایا تھا۔اس کو میں چھوڑ کر جارہا ہوں۔جو لذتیں حاصل کی تھیں وہ لذتیں بالآخر زائل ہو گئیں اور سوائے خواب اور دھو کے کے میرے پاس کچھ بھی نہیں انجام کا راس کو یہ معلوم ہوتا ہے۔قوموں کا بھی یہی حال ہے یورپ میں جانے والے جانتے ہیں کہ ساری یورپین تہذیب اپنے ماحصل سے مایوس ہو چکی ہے۔جو کچھ انہوں نے حاصل کیا لذتوں میں وہ اب ان کے لیے پرانا ہو گیا ہے۔نئے نئے رستوں کی تلاش کرتے ہیں اس سے زیادہ ان کو کچھ حاصل نہیں ہوتا۔تکاثر کے نتیجے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی جس قومی دوڑ میں داخل ہو گئے ہیں اس نے خطرات پیدا کر دیئے ہیں۔ان کو نظر آرہا ہے کہ کوئی بعید نہیں کہ جو کچھ ہم نے حاصل کیا تھا دیکھتے دیکھتے یہ ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جائیگا۔انتہائی مایوسی کا عالم ہے۔یورپ میں جتنی بھی نئی موومنٹس چل رہی ہیں وہ اس بات کی مظہر ہیں کہ قرآن کریم کا یہ بیان سچا ہے کہ کچھ عرصے تک لذتوں کے حصول کے بعد تم خود ان لذتوں میں دلچسپی کھو دو گے۔بالآخر تمہارے پاس کچھ بھی نہیں رہے گا۔مَا الْحَيَوةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ آج مغرب کی آواز بھی یہی اٹھ رہی ہے کہ ہم نے کیا حاصل کیا؟ حقیقت میں ہمیں چین نصیب نہیں ہوا۔اتنی بے چینی ، اتنی بیقراری ہے آج ان ترقی یافتہ قوموں میں، اگر خود کشی کا رجحان کوئی پیمانہ ہو سکتا ہے تو سب سے زیادہ خودکشی آج ترقی یافتہ قوموں میں پائی جاتی ہے۔اگر پاگل پن کوئی پیما نہ ہوسکتا ہے تو اس کثرت کے ساتھ پاگل پیدا ہورہے ہیں کہ باوجود اس کے کہ ان قوموں کے پاس ذرائع بہت زیادہ ہیں اور ہمارے ملک کے پاگل خانوں کی نسبت انہوں نے سینکڑوں گنازیادہ پاگل خانے بنائے ہوئے ہیں، پھر بھی وہ پاگل خانے بھر جاتے ہیں اور پاگل رکھنے کی جگہ نہیں ملتی پھر وہ دوسرے Homes بناتے ہیں۔پھر ایسی اور سوسائٹیاں پیدا ہو جاتی ہیں ، ان کی مدد کیلئے۔چنانچہ صرف امریکہ میں اتنے پاگل خانے ہیں کہ ( انکی Exact گنتی تو مجھے یاد نہیں لیکن میرا اندازہ یہ ہے کہ اگر ہندوستان اور پاکستان بلکہ سارے مشرق کے پاگل خانے ملا لیے جائیں تو اس سے کئی گنا زیادہ صرف امریکہ میں پاگل خانے ہیں اور کیوز Cues لگے ہوئے ہیں اور باری نہیں آرہی۔اور کچھ مینٹل ہومز (Mental Homes) ہیں جو اس کے علاوہ ہیں۔ذہنی بے چینی کا اسوقت یہ عالم ہے کہ صرف وہیم (Valium) پر، جو ایک معمولی سی دوائی