خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 222 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 222

خطبات طاہر جلد اول 222 خطبه جمعه ۲۲/اکتوبر ۱۹۸۲ء مبتلا ہو جاتی ہیں اور تمام نیکیوں سے محروم کرنے اور تمام برائیوں کو پیدا کرنے کی ذمہ دار یہ چیزیں ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آخر پہ کیا ہوتا ہے؟ ان چیزوں کی پیروی کچھ دیر لذتیں بخشتی ہے ،لیکن ان کے حصول کے بعد رفتہ رفتہ انکی لذتیں ختم ہونے لگ جاتی ہیں۔انسان جس کو لہلہاتی ہوئی کھیتی سمجھ رہا تھا، جسکی طرف دوڑ رہا تھا۔خوش ہور ہا تھا کہ اب مجھ پر گو یا فضل نازل ہو گیا ہے، بہت خوبصورت نظر آنیوالا انسان بن گیا ہوں، میری طرف تو جبات مبذول ہو رہی ہیں، جس طرح کھیتی لہلہاتی ہے، اس طرح دنیا کے یہ رزق اور دنیا کے پانی مجھے راس آگئے ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اسکے بعد ایک دوسرا دور شروع ہوتا ہے جس میں انسان دیکھتا ہے کہ یہ لہلہاتی ہوئی کھیتیاں زردی میں تبدیل ہو رہی ہیں۔لذتوں کا حصول جس کی وہ پیروی کرنا چاہتا تھا وہ اسے حاصل نہیں ہوتا۔کچھ دیر کے بعد بے چینی اس کی جگہ لے لیتی ہے۔انسان جوانی سے بڑھاپے میں داخل ہونا شروع ہوجاتا ہے۔قو میں ایک حالت سے اعلیٰ حالت کی طرف جا کر ان حالتوں میں کھو جاتی ہیں اور قومی طور پر ان پر بڑھا پا آنا شروع ہو جاتا ہے۔یہاں تک کہ جو کچھ انہوں نے حاصل کیا اس زندگی میں ، وہ دوسروں کو تو خواہ کتناہی حسین نظر آرہا ہو، خود فی ذاتہ وہ قو میں اس کی لذت سے محروم ہو جاتی ہیں۔چنانچہ انسان اپنے اوپر بھی دیکھے تب بھی یہی بات صادق آتی ہے اور قومی نظر سے دیکھے تب بھی یہ بات صادق آتی ہے۔ایک آدمی ایک چیز حاصل کر کے چند دن اس پر خوش ہو جاتا ہے۔جس طرح بچہ کھلونے سے کھیلتا ہے کچھ دیر اس کو بڑا مزا آتا ہے لیکن وہی کھلونا پرانا ہوکر اس کے لیے بے معنی ہو جاتا ہے۔ایک آدمی کو پہلی دفعہ کیمرہ ملتا ہے۔وہ بڑا خوش ہوتا ہے تصویریں کھینچتا ہے۔رفتہ رفتہ اس کیمرے سے اس کی دلچسپی ختم ہو کر اور کیمروں کی طرف ہو جاتی ہے جو اس کے ہاتھ میں نہیں ہیں۔اور یہ جو مزید کی خواہش ہے یہ اس کے اندر بے قراری پیدا کر دیتی ہے۔جو حاصل ہوا ہے اس پر اطمینان نہیں رہتا، انسان ایک نئی کوٹھی میں داخل ہوتا ہے۔بڑا مزہ آ رہا ہے۔کچھ دیر کے بعد اپنائیت کی وجہ سے بوریت پیدا ہو جاتی ہے اور انسان کہتا ہے او ہو، فلاں کی جو کوٹھی میں نے دیکھی تھی وہ تو بہت اچھی تھی۔تو سبز نظر آنے والی ہر چیز اس کے لیے زردی میں تبدیل ہوتی رہتی ہے۔یہاں تک کہ جب وہ اپنے انجام کو پہنچتا ہے تب اس کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ مَا الْحَيوةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ که زندگی تو دھو کے کے سوا کچھ بھی نہیں تھی۔میں خواہ مخواہ اس کی پیروی کرتا رہا۔ایک چیز سے اچھل کر دوسری کی