خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 224 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 224

خطبات طاہر جلد اول 224 خطبه جمعه ۲۲/اکتوبر ۱۹۸۲ء ہے، پچاس کروڑ ڈالر یا پانچ ارب روپیہ سالانہ خرچ ہو رہا ہے ، جو بعض ممالک کی آمد سے بھی بڑھکر ہے۔وہ صرف ذہنی بے چینی کو دور کرنے کے لیے ایک دوائی کے اوپر خرچ کر رہے ہیں اور سارے Drugs پر امریکہ میں جو خرچ ہو رہا ہے وہ مشرق کے بہت سارے ملکوں کی اجتماعی دولت سے بھی زیادہ ہے۔یہ کیوں ہورہا ہے ؟ اس لیے کہ ان کا دل گواہی دے رہا ہے کہ مَا الْحَيُوةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ ہم نے جو کوشش کی تھی حصول لذت کی ، اس میں ہم ناکام ہو گئے ہیں۔ایک منزل سے دوسری کی طرف بڑھے، دوسری سے تیسری کی طرف بڑھے۔یہاں تک کہ بالآخر ہم نے یہ دیکھا کہ وہ سب کچھ جو ہمارا ماحصل تھا وہ ایک ایسی زردی میں تبدیل ہو گیا ہے جس میں کچھ بھی باقی نہیں رہا۔سبز کھیتی جس طرح لذت عطا کرتی ہے نگاہ کو۔اگر وہ پھل دینے سے پہلے مرنی شروع ہو جائے تو زمیندار کو کتنی تکلیف ہوتی ہے۔وہ نقشہ قرآن کریم کھینچ رہا ہے۔بیچ میں کہیں پھل کا ذکر نہیں۔فرماتا ہے کھیتیاں لہلہاتی تو نظر آئیں گی تمہیں لیکن انکو پھل نہیں لگے گا وہ دیکھتے دیکھتے خشک ہونے لگیں گی اور خشک ہو کر جب زردی میں تبدیل ہوں گی پھر تمہیں تکلیف ہونی شروع ہو گی اور اس تکلیف کے نتیجے میں تم محسوس کرو گے جو کچھ ہم نے حاصل کیا تھا سب ہاتھ سے نکل گیا ہے۔کچھ بھی ہمارے پاس نہیں رہا۔تب دل کی آواز اٹھتی ہے مَا الْحَيَوةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ یہ ویسا ہی نقشہ ہے جس طرح انفرادی طور پر ہر انسان کی زندگی میں آتا ہے۔میر درد نے اسی حالت پر غور کیا تو یہ شعر کہا وائے نادانی کہ وقت مرگ یہ ثابت ہوا خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسا نہ تھا جب انسان موت کے قریب آتا ہے تو ہر فر د بھی یہی گواہی دے رہا ہوتا ہے کہ کچھ بھی نہیں۔خواہ خواہ کی دوڑ دھوپ لگائی ہوئی تھی ہم نے۔جو کچھ حاصل کیا تھا وہ تو ہم پیچھے چھوڑ کے جارہے ہیں اور جو حاصل کیا تھاوہ چین جان اور آرام دل پیدا نہیں کر سکا۔نا کامی اور حسرت کے ساتھ ایسے لوگ جان دیتے ہیں۔ان کے متعلق اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ انجام کا ر پھر یہ ایسے دور میں داخل ہو جائیں گے کہ وَفِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ شدید قسم کا عذاب آخرت میں ان کے لیے مقدر ہے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے یہ عذاب اس دنیا میں شروع ہو جاتا ہے ،فرداً فرداً بھی وہ