خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 75
خطبات طاہر جلد اول 75 خطبہ جمعہ ۳۰ جولائی ۱۹۸۲ء ہے اور اس کے برعکس قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ ادنی ، روزمرہ کی با تیں پکڑتا ہےاور اللہ تعالیٰ پر مضمون کو ختم کرتا ہے۔اب لباس ہی کو لیجئے۔دنیا میں یہ جو لباس کا ذکر ہے یہ شعر و ادب میں بھی ملتا ہے اور مذاہب میں بھی ملتا ہے۔اور قرآن کریم نے لباس کا جو مضمون باندھا ہے وہ نہ صرف یہ کہ دنیا کے شاعروں کے کلام میں نہیں ملتا بلکہ دنیا کے کسی مذہب میں یہ نظر نہیں آتا۔میں علم کی بنا پر یہ بات کر رہا ہوں گومیرا علم حاوی نہیں محدود ہے۔لیکن جتنی بھی انسانی علم کو دسترس ہوسکتی ہے میں نے موازنہ مذاہب کے دوران غور کیا کہ اس مضمون کی آیت ، بلکہ بیشمار اور آیات ہیں جن کے مضمون کو کسی الہی کتاب نے چھوا تک نہیں۔بائیبل میں لباس کا ذکر ملتا ہے۔انبیاء کے اس طرح کے فاخرانہ لباس تھے۔یہ ہوا ، وہ ہوا۔فلاں بادشاہ نے یہ پہنا ہوا تھا۔سلک و مروارید کی باتیں ہیں ، اطلس و کمخواب کے قصے ہیں۔مگر قرآن کریم لباس کے مضمون کو پکڑتا ہے اور ایک دم اچھال کر اس کو خدا تک پہنچا دیتا ہے۔بیچ میں کوئی درمیانی دور ہی نہیں آتا۔وَلِبَاسُ التَّقْوى ذلِكَ خَيْرُ ط (الاعراف: ۲۷) حیرت انگیز کلام ہے۔کہیں بات کرتا ہے لباس کی عبرت کے رنگ میں تو کہتا ہے۔لِبَاسَ الْجُوع (الحل :۱۱۳) بھوک کا لباس۔یعنی ظاہری لباس نظر سے غائب ہو جاتے ہیں اور مضامین ان کی جگہ لے لیتے ہیں۔لباس کی ادنیٰ حالت کا بھی ذکر کرتا ہے جو لِبَاسَ الْجُوعِ پر جا کر منتج ہوتی ہے اور اس کی اعلیٰ حالت کا بھی ذکر کرتا ہے جو لِباسُ التَّقوى پر جا کے منتج ہوتی ہے۔اس مضمون پر میں نے کچھ مختصر بات عید کے خطبے میں کی تھی لیکن یہ بہت وسیع مضمون ہے۔لِبَاسُ التَّقوی کے معنی کیا ہیں؟ اس آیت کا جو اصل روحانی مقصد ہے وہ ایک بہت وسیع مضمون ہے لیکن میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارے ظاہری لباس سے بھی لِبَاسُ التَّقْوى کا ایک تعلق ہے اور وہ تعلق فوراً تو انسان کو سمجھ نہیں آتا۔اگر انسان غور و فکر کرتار ہے اور اس کی زندگی پر پھیلے ہوئے واقعات جو ہیں ان کو مجتمع کرے اور غور کرے اور ان کی یا دوں میں ڈوبے تو اس کے سامنے یہ مضمون ابھر جائے گا کہ انسان روز مرہ کے عام لباس میں بھی تقویٰ کے بارے میں آزمایا جاتا ہے اور مختلف حالتوں میں تقویٰ کا مضمون بھی بدلتا رہتا ہے۔کبھی یہ دین کی طرف لے جاتا ہے، کبھی