خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 74
خطبات طاہر جلد اول 74 خطبہ جمعہ ۳۰ جولائی ۱۹۸۲ء کیوں دھوکا کھایا ان کی آنکھ نے۔اور اس آنکھ نے جو ابو بکر اور عمر اور عثمان اور علی رضوان اللہ علیہم کی آنکھ تھی ، کیوں مختلف نتیجہ اخذ کیا؟ اس لیے کہ وہ ظاہر پرستوں کی آنکھیں نہیں تھیں، وہ غور کر نیوالوں کی آنکھیں تھیں ،فکر کرنے والوں کی آنکھیں تھیں وہ ظاہری منظر کو دیکھ کر اس کے پس منظر میں ڈوبنے والی آنکھیں تھیں اور غور کے بعد نتیجہ اخذ کر نیوالی آنکھیں تھیں۔وہ اس راز کو پاگئیں کہ اگر چه شعری لحاظ سے بظاہر دونوں میں کوئی فرق نظر نہیں آتا سوائے ادنی اور اعلیٰ کے۔بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ کلام ہے تو شعر لیکن اتنے اعلیٰ معیار کا شعر ہے جو سحر کی حد میں داخل ہو گیا ہے، جادوگری تک پہنچ گیا ہے۔لیکن یہ درست نہیں اس لیے کہ سحر اور شعر کا رخ مختلف ہوتا ہے اور نبوت کا رخ مختلف ہوتا ہے۔نبوت کے تصورات اور افکار کی رو بالکل مخالف سمت میں بہہ رہی ہوتی ہے اور شعر اور جادوگری کی رو بالکل مخالف سمت میں بہہ رہی ہوتی ہے۔ان کا آپس میں کوئی جوڑ ہی نہیں کوئی تعلق ہی نہیں۔دنیا کے شعر اور ادب کا جتنا بھی مجموعہ ہے اس میں ہمیشہ آپ رخ مادیت کی طرف دیکھیں گے۔دنیاوی لذات کی طرف اس کا رخ پائیں گے۔اعلیٰ حوالے سے بھی بات ہوگی تو بالآخرتان وہیں جا کر ٹوٹے گی کہ انسانی لذتوں کا ماحصل کیا ہے اور ظاہری تسکین کیسے ہوتی ہے؟ لیکن نبوت کے کلام میں ایک بالکل مختلف رو پائی جاتی ہے۔وہ ادنی ، روزمرہ کی باتیں بھی شروع کرتی ہے تو تان آخر تقویٰ پر اللہ کے ذکر پہ ٹوٹتی ہے۔وہاں اللہ کے حوالے سے بھی بعض دفعہ بات کی جائے تو تان دنیا پر جا کر ٹوٹتی ہے۔شراب اور کباب پر جا کر بات ختم ہوتی ہے۔یہاں ادنی ادنی روز مرہ کی باتیں کی جائیں تو تان جا کر تقویٰ پر ٹوٹتی ہے، تقویٰ پر جا کر ٹوٹتی نہیں بلکہ تقویٰ کی تان میں تبدیل ہو جاتی ہے۔جو پھر کبھی نہیں ٹوٹی۔وہ ایسی تان ہے جس کو ابد بیت حاصل ہے۔اس فرق کی مثال میں آپ کےسامنے رکھتا ہوں۔ایک شاعر کہتا ہے ہر چند ہو مشاہدہ حق کی گفتگو بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر (دیوان غالب) یعنی اللہ کا ذکر بھی ہو تو ہمارا ذہن جو بادہ مست ہے آخر بادہ اور شراب کی طرف پہنچ جاتا ہے اور اس کے حوالے کے بغیر ہم بات ہی نہیں کر سکتے۔ذکر الہی بھی ہو تو شراب پر جا کرتان ٹوٹ رہی