خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 76
خطبات طاہر جلد اول 76 خطبہ جمعہ ۳۰ جولائی ۱۹۸۲ء اہم کاموں کی طرف لے جاتا ہے، کبھی اعلیٰ مقاصد کی طرف لے جاتا ہے اور بعض دفعہ یہ سب قوموں میں مشترک ہو جاتا ہے۔اور جب بحیثیت انسان تقویٰ کی بات کرتے ہیں تو اور معنے بن جاتے ہیں۔کبھی یہ الہی رنگ پکڑتا ہے تو تقویٰ کا مضمون اور ہی شان میں داخل ہو جا تا ہے، لیکن صرف ظاہری لباس کے حوالے سے بھی بات کی جائے تو بڑا پیارا مضمون بنتا ہے بڑا گہرا اور تفصیلی ہے۔اس کا دائرہ ساری زندگی پر محیط ہے۔اس ضمن میں میں اپنے بچپن کے تجارب کے حوالے سے بات کروں گا۔ایک ایک چھوٹا چھوٹا واقعہ چنا ہے آپ کو بتانے کے لیے کہ اگر آپ بیدار فکر کیساتھ غور کریں تو ہر چیز میں کچھ نہ کچھ نصیحت آپ کو ملتی چلی جائے گی۔باتیں بالکل ادنی سی چھوٹی چھوٹی ہیں لیکن ان کے اندر گہرے سبق ہیں اور سب میں تقویٰ کا سبق مل رہا ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا گھر میں رواج اور دستور یہ تھا کہ بہت سادہ زندگی تھی۔بیوی بچوں کو بہت تھوڑا دیتے تھے اور زیادہ توجہ چندوں کی طرف دلاتے تھے۔اتنی سادہ زندگی تھی کہ کپڑے بعض دفعہ سی سی کے بھی اس قابل نہیں ہوتے تھے کہ پہن کر انسان سکول جائے چنانچہ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ شلوار تھی قمیص نہیں تھی اور سکول جانا تھا۔میرے بہن، بھائی اب تک یاد کر کے بہت ہنستے ہیں اس لطیفے پر کہ میں نے اس خیال سے کہ سکول Miss نہ ہوا چکن خالی بدن پر پہن لی یعنی شلوار اور اچکن۔اب میری آزمائش مقدر تھی۔جب وہاں گیا تو پی ٹی کی گھنٹی آئی۔استاد نے جب مجھے اچکن میں دوڑتے دیکھا تو بڑا حیران ہوا۔اس نے کہا پاگل ہو گیا ہے۔اس کو بلا کر باہر نکالو۔اس نے مجھے کہا کہ اچکن اتارو اور پی ٹی کرو۔اچکن کونسا لباس ہے پی ٹی کا؟ میں نے کہا نہیں۔آپ کی بات سر آنکھوں پر لیکن اچکن اتار کے میں نے پی ٹی نہیں کرنی۔تھوڑی سی چھینا جھپٹی ہوئی۔انہوں نے میرے گریبان پہ ہاتھ ڈالا میں نے ان کی خوشامد کی کہ اس بات کو چھوڑ دیں۔لیکن دو بٹن کھولے تو انہیں بات سمجھ آگئی۔انہوں نے کہا ٹھیک ہے تم بیٹھے رہو۔تو مجھے خیال آیا کہ اعلیٰ مقاصد کے رستے میں لباس حائل نہیں ہونا چاہئے۔جو لباس اعلیٰ مقاصد کے رستے میں حائل ہو جاتا ہے وہ تقویٰ کے خلاف ہے۔اس ضمن میں مجھے صرف اس لحاظ سے لطف آیا کہ ایک موقع پر خدا نے مجھے کامیاب کر دیا۔پھر خیال آیا کہ ناکامیوں کے بھی تو بہت سے