خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 41
خطبات طاہر جلد اول 41 خطبہ جمعہ ۹ر جولائی ۱۹۸۲ء خدا کے فضل ، دنیا کے دوسرے تمام مالی نظاموں سے اس طرح ممتاز ہوا کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون کو بڑے پیارے انداز میں یوں بیان فرمایا: بہار آئی ہے اس وقت خزاں میں لگے ہیں پھول میرے بوستاں میں (در شین) ۷۴ء میں بھی قربانیوں کے بڑے بڑے پیارے پھول کھلے تھے ایسے پھول جو سارے جہاں کو زینت بخش سکتے تھے اگر دنیا ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی اور یہ پھول بوستان احمد میں ہمیشہ کھلتے رہیں گے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس بوستان پر کبھی خزاں نہیں آئے گی۔پس پہلا شکر کا موجب یہ تصور ہے جو ہماری روحوں کو اللہ کے حضور سجدہ ریز کر دیتا ہے اور جھکائے رکھتا ہے۔دوسرا ایک خاص پہلو اور بھی ہے جس کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ایک خاص وعدہ بھی تھا۔اور وہ مالی اعانت کا وعدہ تھا۔آر کو اللہ تعالیٰ نے بڑے پیار کے انداز میں پنجابی کے کلام میں یوں فرمایا: میں تینوں اینا دیاں گا کہ رج جائیں گا رجنے کی ایک علامت ہوتی ہے کہ اس کا پس خوردہ بچا کرتا ہے۔جورجے نہ ، جس کا پیٹ نہ بھرے، اس کی تو طلب باقی رہ جایا کرتی ہے اور پلیٹ میں کچھ نہیں رہتا۔رجا ہوا تو اپنی پلیٹ کو چھوڑ جاتا ہے۔دوسرے بھی اس سے استفادہ کرتے ہیں۔چنانچہ میں نے منصب خلافت پر آنے کے بعد دیکھا کہ اللہ کے فضل سے بے شمار روپیہ نیک کاموں پر خرچ کرنے کیلئے آپ کا پس خوردہ موجود ہے اور سلسلہ کو مالی لحاظ سے کوئی کمی نہیں ہے اور کوئی کمی خدا کے فضل سے نہیں ہوگی۔اللہ تعالیٰ کا جو یہ وعدہ ہے میں امید رکھتا ہوں اور دعا کرتا ہوں اور آپ بھی اس دعا میں شامل ہوں کہ وہ اسی طرح جماعت کے ساتھ جاری رہے کیونکہ خلیفہ کے بدلنے سے خلافت تو نہیں بدلا کرتی۔خدا کے کام تو نہیں بدلا کرتے۔دین کی ضرورتیں تو نہیں بدلا کرتیں۔اس لئے ہمیں یہ التجا کر نی چاہئے کہ اے اللہ ! جو فضل تو نے جاری فرما دیا اس کو جاری رکھ اس مزید دعا کے ساتھ کہ اے خدا! تو اپنے فضل اور عطا بھی بڑھاتا چلا جا اور ہماری بھوک بھی بڑھاتا چلا جا۔ہمارے مانگنے کا ظرف بھی بڑھاتا چلا جا۔ان دونوں کے درمیان دوڑ شروع کر دے۔اور خود تیری عطا کردہ ایک ایسی پیاری دوڑ چل پڑے کہ جس طرح